حدیث نمبر: 1104
وعن سعيد بن جبير رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قتل يوم بدر ثلاثة صبرا . أخرجه أبو داود في المراسيل ورجاله ثقات.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے روز تین آدمیوں کو باندھ کر قتل کیا ۔ اسے ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں نقل کیا ہے ۔ اس کے راوی ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1104
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:337، بسند صحيح عند به مطولاً، وعلته الإرسال.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے روز تین آدمیوں کو باندھ کر قتل کیا۔ اسے ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں نقل کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1104»
تخریج:
«أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:337، بسند صحيح عند به مطولاً، وعلته الإرسال.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ» سعید بن جبیر کبار تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ آخری آدمی تھے جنھیں حجاج ثقفی نے قتل کروایا تھا۔
یہ حدیث و تفسیر کے قابل حجت امام تھے۔
خلیفہ کا بیان ہے کہ میں سعید بن جبیر کے قتل کے موقع پر حاضر تھا‘ جب ان کا سر جدا کیا گیا تو انھوں نے لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘ لا إلٰہ إلا اللّٰہ کہا‘ جب تیسری مرتبہ لا إلٰہ إلا اللّٰہ کہنے لگے تو مکمل نہ کر سکے۔
رحمہ اللہ۔
میمون بن مہران کا بیان ہے کہ سعید بن جبیر تو فوت ہو گئے لیکن روئے زمین پر ایسا ایک بھی فرد نہیں جو ان کے علم کا محتاج نہ ہو۔
انھیں ۹۵ہجری میں ادھیڑ عمری میں قتل کیا گیا۔
(لفظ جُبَـیْر تصغیر ہے۔
)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1104 سے ماخوذ ہے۔