حدیث نمبر: 1102
وعن مكحول رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نصب المنجنيق على أهل الطائف. أخرجه أبو داود في المراسيل ورجاله ثقات ووصله العقيلي بإسناد ضعيف عن علي رضي الله عنه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق نصب کی ۔ اسے ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں تخریج کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں مگر عقیل نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ضعیف سند کے ساتھ موصول قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1102
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:335، بإسناد صحيح عنه، وحديث علي: أخرجه العقيلي في الضعفاء:2 /244، وسنده ضعيف جدًا. فيه عبدالله بن خراش منكر الحديث، وللحديث شواهد مرسلة عند البيهقي:9 /84، والترمذي، الأدب، حديث:2762 ب وغيرهما.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2762

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق نصب کی۔ اسے ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں تخریج کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں مگر عقیل نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ضعیف سند کے ساتھ موصول قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1102»
تخریج:
«أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:335، بإسناد صحيح عنه، وحديث علي: أخرجه العقيلي في الضعفاء:2 /244، وسنده ضعيف جدًا. فيه عبدالله بن خراش منكر الحديث، وللحديث شواهد مرسلة عند البيهقي:9 /84، والترمذي، الأدب، حديث:2762 ب وغيرهما.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت ضعیف ہے‘ تاہم دشمن کو نیست و نابود کرنے یا ان کا زور توڑنے اور عسکری قوت کمزور کرنے کے لیے نئے نئے طریقہ ہائے جنگ اور جدید سامان حرب و ضرب استعمال کرنے چاہئیں اور مسلمانوں کو سامان حرب نئے سے نئے ایجاد کرنے چاہئیں۔
2. آج کے دور میں ایٹم بم اور دیگر تباہ کن اور ہیبت ناک ہتھیار بھی تیار کرنے چاہئیں تاکہ دشمن پر مسلمانوں کا رعب و دبدبہ قائم ہو۔

راویٔ حدیث:
«حضرت مکحول رحمہ اللہ» دمشق کے باشندے اور شام کے فقیہ تھے۔
کبار ائمہ میں سے تھے۔
ابوحاتم کا قول ہے کہ شام میں ان سے بڑا فقیہ میرے علم میں نہیں ہوا۔
انھوں نے ۱۱۳ ہجری میں وفات پائی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1102 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2762 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´داڑھی کے بال (طول و عرض سے) لینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی لمبائی اور چوڑائی سے لیا کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2762]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
امام ترمذی نے وکیع بن جراح کے واسطہ سے جو حدیث منجنیق روایت کی ہے، تو اس کا مقصد یہ ہے کہ وکیع بن جراح جیسے ثقہ راوی نے عمر بن ہارون سے روایت کی ہے، گویا عمربن ہارون کی توثیق مقصود ہے۔

نوٹ:
(سند میں ’’عمر بن ہارون ابوجوین العبدی‘‘ متروک الحدیث ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2762 سے ماخوذ ہے۔