حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1093
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لرجل تبعه يوم بدر: «ارجع فلن أستعين بمشرك » رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جو بدر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو گیا تھا ’’ واپس چلا جا میں مشرک سے مدد کا طالب نہیں ہوں ۔ “ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جو بدر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو گیا تھا ’’ واپس چلا جا میں مشرک سے مدد کا طالب نہیں ہوں۔ " (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1093»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جو بدر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو گیا تھا ’’ واپس چلا جا میں مشرک سے مدد کا طالب نہیں ہوں۔ " (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1093»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجهاد والسير، باب كراهة الاستعانة في الغزو بكافر...، حديث:1817.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ نے مشرک سے جنگ میں تعاون لینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
2. واقعہ کچھ یوں ہے کہ جنگ بدر کی طرف آپ تشریف لے جا رہے تھے۔
جب حرہ پر پہنچے تو ایک مشرک آپ کے ساتھ آملا۔
وہ جرأت و بہادری میں مشہور تھا۔
اس نے آتے ہی عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں اور غنیمت کے حصول کے لیے شامل ہوا ہوں۔
آپ نے فرمایا: ’’اللہ پر ایمان رکھتا ہے یا نہیں؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔
اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں کسی مشرک سے مدد نہیں چاہتا۔
‘‘ جب وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا تو اسے اجازت مرحمت فرما دی۔
3.یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کافر سے مدد لینا جائز ہے یا نہیں۔
ایک جماعت کا خیال تو یہی ہے کہ امداد لینا ناجائز ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کی رائے ہے کہ بوقت ضرورت امداد لینا جائز ہے جیسا کہ آپ نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ وغیرہ سے اسلحہ کی امداد لی تھی اور قینقاع کے یہودیوں سے بھی امداد لی تھی۔
بہرحال شدید ضرورت و حاجت کے موقع پر اسلحہ کی امداد اور افرادی امداد لینے کی گنجائش ہے۔
«أخرجه مسلم، الجهاد والسير، باب كراهة الاستعانة في الغزو بكافر...، حديث:1817.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ نے مشرک سے جنگ میں تعاون لینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
2. واقعہ کچھ یوں ہے کہ جنگ بدر کی طرف آپ تشریف لے جا رہے تھے۔
جب حرہ پر پہنچے تو ایک مشرک آپ کے ساتھ آملا۔
وہ جرأت و بہادری میں مشہور تھا۔
اس نے آتے ہی عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں اور غنیمت کے حصول کے لیے شامل ہوا ہوں۔
آپ نے فرمایا: ’’اللہ پر ایمان رکھتا ہے یا نہیں؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔
اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں کسی مشرک سے مدد نہیں چاہتا۔
‘‘ جب وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا تو اسے اجازت مرحمت فرما دی۔
3.یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کافر سے مدد لینا جائز ہے یا نہیں۔
ایک جماعت کا خیال تو یہی ہے کہ امداد لینا ناجائز ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کی رائے ہے کہ بوقت ضرورت امداد لینا جائز ہے جیسا کہ آپ نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ وغیرہ سے اسلحہ کی امداد لی تھی اور قینقاع کے یہودیوں سے بھی امداد لی تھی۔
بہرحال شدید ضرورت و حاجت کے موقع پر اسلحہ کی امداد اور افرادی امداد لینے کی گنجائش ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1093 سے ماخوذ ہے۔