حدیث نمبر: 1088
وعن نافع رضي الله عنه قال : أغار رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على بني المصطلق وهم غارون فقتل مقاتلتهم وسبى ذراريهم. حدثني بذلك عبد الله بن عمر . متفق عليه .
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تو اس وقت یہ لوگ بےخبر و غافل تھے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لڑائی کرنے والوں کو قتل کیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا ۔ یہ مجھ سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا ۔ ( بخاری و مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1088
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2541 | صحيح مسلم: 1730

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تو اس وقت یہ لوگ بےخبر و غافل تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لڑائی کرنے والوں کو قتل کیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ یہ مجھ سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1088»
تخریج:
«أخرجه البخاري، العتق، باب من ملك من العرب رقيقا فوهب وباع...، حديث:2541، ومسلم، الجهاد والسير، باب جواز الإغارة علي الكفار...، حديث:1730.»
تشریح: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع موصول ہوئی کہ یہ لوگ آپ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے انھیں راتوں رات جا لیا اور ایسا شب خون مارا کہ ان کے دس آدمی قتل کر دیے اور باقی سب مردوں اور عورتوں کو قید کر لیا‘ ان میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہ چھوڑا۔
اس لڑائی میں مسلمانوں کا صرف ایک آدمی شہید ہوا۔
اسی معرکہ میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوئیں۔
یہ دراصل حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں۔
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے مکاتبت کر لی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ کی مکاتبت خود ادا فرما کر ان سے شادی کر لی۔
جب لوگوں نے سنا کہ آپ نے جویریہ کو اپنے حرم میں داخل فرما لیا ہے تو لوگوں نے ان کے قیدیوں کو آزاد کر دیا۔
ان کی شادی کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کے سو افراد آزاد ہوئے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال بن گئے تھے۔
چنانچہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اپنی قوم کے لیے بہت بابرکت ثابت ہوئیں۔
یہی وہ غزوہ ہے جس میں واقعۂ افک رونما ہوا۔
اس واقعے کی کچھ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1088 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2541 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2541. ابن عون کہتے ہیں: میں نے حضرت نافع ؓ کوخط لکھا توانھوں نے جواباً مجھے خط لکھا کہ نبی کریم ﷺ نے جب بنومصطلق پر حملہ کیا تو وہ بالکل بے خبر تھے اور ان کےجانوروں کو تالاب پر پانی پلایاجارہا تھا، چنانچہ آپ نے ان کے لڑنے والوں کوقتل کردیا اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا۔ انھی قیدیوں میں سے حضرت ام المومنین جویریہ ؓ بھی تھیں۔ حضرت نافع کہتے ہیں: مجھے یہ واقعہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا جو اس لشکر میں موجود تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2541]
حدیث حاشیہ: حضرت جویریہ ؓ حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔
ان کا باپ بنی مصطلق کا سردار تھا۔
کہتے ہیں پہلے یہ ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں۔
انہوں نے ان کو مکاتب کردیا۔
آنحضرت ﷺ نے بدل کتابت ادا کرکے ان سے نکاح کرلیا اور آپ ﷺ کے نکاح کرلینے کی وجہ سے لوگوں نے بنی مصطلق کے کل قیدیوں کو آزاد کردیا، اس خیال سے کہ آنحضرت ﷺ کے رشتہ دار ہوگئے۔
(وحیدی)
بنومصطلق عرب قبیلہ تھا جسے غلام بنایاگیا تھا۔
اسی سے باب کی مطابقت ثابت ہوئی کہ عربوں کو بھی لونڈی غلام بنایا جاسکتا ہے۔
اگر وہ کافر ہوں اور اسلامی حکومت کے مقابلہ پر لڑنے کو آئیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2541 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2541 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2541. ابن عون کہتے ہیں: میں نے حضرت نافع ؓ کوخط لکھا توانھوں نے جواباً مجھے خط لکھا کہ نبی کریم ﷺ نے جب بنومصطلق پر حملہ کیا تو وہ بالکل بے خبر تھے اور ان کےجانوروں کو تالاب پر پانی پلایاجارہا تھا، چنانچہ آپ نے ان کے لڑنے والوں کوقتل کردیا اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا۔ انھی قیدیوں میں سے حضرت ام المومنین جویریہ ؓ بھی تھیں۔ حضرت نافع کہتے ہیں: مجھے یہ واقعہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا جو اس لشکر میں موجود تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2541]
حدیث حاشیہ:
(1)
بنو مصطلق ایک عرب قبیلہ ہے جسے غلام بنایا گیا۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ عربوں کو بھی لونڈی غلام بنایا جا سکتا ہے جبکہ وہ کافر ہوں اور اسلامی حکومت کے مقابلے میں لڑنے کے لیے آئیں اور یہی بات راجح ہے، تاہم بعض اہل علم کا موقف ہے کہ عربوں کی شرافت کے پیش نظر انہیں لونڈی غلام نہ بنایا جائے۔
(2)
اس حدیث سے عربوں کی اولاد کو قیدی بنانا ثابت ہوا۔
جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت جویریہ ؓ سے نکاح کر لیا تو صحابۂ کرام ؓ نے بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سسرالی رشتے میں منسلک ہو چکے تھے۔
رضي الله عنهم أجمعين
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2541 سے ماخوذ ہے۔