حدیث نمبر: 1080
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من مات ولم يغز ولم يحدث نفسه به مات على شعبة من نفاق » رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص ایسی حالت میں مر گیا کہ اس نے نہ کبھی جہاد میں حصہ لیا اور نہ کبھی اس کے دل میں یہ خیال آیا اور نہ اس کی خواہش و تمنا پیدا ہوئی تو اس کی موت نفاق کے شعبہ پر ہوئی ۔ “ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1080
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، الإمارة، باب ذم من مات ولم يغز...، حديث:1910.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص ایسی حالت میں مر گیا کہ اس نے نہ کبھی جہاد میں حصہ لیا اور نہ کبھی اس کے دل میں یہ خیال آیا اور نہ اس کی خواہش و تمنا پیدا ہوئی تو اس کی موت نفاق کے شعبہ پر ہوئی۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1080»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الإمارة، باب ذم من مات ولم يغز...، حديث:1910.»
تشریح: 1. بلوغ المرام کے تمام نسخوں اور شروحات میں بِـہٖ کو نَفْسَہُ کے بعد ذکر کیا گیا ہے جبکہ صحیح مسلم میں بِـہٖ پہلے ہے اور نَفْسَہُ بعد میں ہے۔
2. اس حدیث کی رو سے کم از کم جہاد فی سبیل اللہ کی پختہ نیت رکھنا واجب ہے۔
اگر جہاد فی سبیل اللہ میں عملاً شریک ہونے کا موقع میسر آجائے تو اس میں شریک ہونے سے گریز نہ کرے بلکہ ایسے موقع کو سعادت سمجھے اور اگر موقع میسر نہ آئے تو پھر موقع کے انتظار میں رہے‘ گویا کہ حسب موقع ہر وقت مومن پر جہاد فی سبیل اللہ فرض ہے اور اسلامی زندگی اسی جذبۂ قربانی سے وابستہ ہے۔
اگر مومن اپنا نصب العین ہی فراموش کر دے تو پھر مومن اور کافر میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔
مومن کا تو فرض منصبی ہی کلمۃ اللہ کی سربلندی ہے۔
اگر وہ اپنے حقیقی فرض سے تغافل برتے گا تو اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1080 سے ماخوذ ہے۔