مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1077
وعن علي رضي الله عنه قال : " ما كنت لأقيم على أحد حدا فيموت فأجد في نفسي إلا شارب الخمر فإنه لو مات وديته " أخرجه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا على رضی اللہ عنہ سے روايت ہے كہ` میں کسی پر ایسی حد نافذ نہیں کروں گا کہ وہ اس سے مر جائے اور میں اس کا غم اپنے دل میں محسوس کروں سوائے شرابی کے اگر وہ سزا میں جاں بحق ہو جائے تو میں اس کی دیت ادا کروں گا ۔ ( بخاری )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1077
درجۂ حدیث محدثین: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´تعزیر اور حملہ آور (ڈاکو) کا حکم`
سیدنا على رضی اللہ عنہ سے روايت ہے كہ میں کسی پر ایسی حد نافذ نہیں کروں گا کہ وہ اس سے مر جائے اور میں اس کا غم اپنے دل میں محسوس کروں سوائے شرابی کے اگر وہ سزا میں جاں بحق ہو جائے تو میں اس کی دیت ادا کروں گا۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1077»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحدود، باب الضرب بالجريد والنعال، حديث:6778، واللفظ له، ومسلم، الحدود، باب حد الخمر، حديث:1707.»
تشریح: 1. حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شرابی کے سزا میں مر جانے کی صورت میں دیت کا جو فرمایا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کی سزا مقرر نہیں فرمائی‘ اس لیے شرابی کا سزا سے مر جانا قتل خطا کے زمرے میں آجاتا ہے اور قتل خطا میں دیت دینا لازم ہے۔
2.جمہور علماء کا بھی یہی خیال ہے کہ تعزیر کی صورت میں وہ شخص مر جائے تو سربراہ مملکت پر اس کی دیت ادا کرنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1077 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔