حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1076
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : «أقيلوا ذوي الهيئات عثراتهم إلا الحدود ». رواه أحمد وأبو داود والنسائي والبيهقي.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ صاحب عز و شرف لوگوں سے بجز حدود الٰہی ، ان کی لغزشیں درگزر کر دیا کرو ۔ “ اسے احمد ، ابوداؤد ، نسائی اور بیہقی نے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4375 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شرعی حدود کو ختم کرنے کے لیے سفارش نہیں کی جا سکتی۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کر دیا کرو سوائے حدود کے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4375]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کر دیا کرو سوائے حدود کے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4375]
فوائد ومسائل:
شرعی حدود بلااستثنا عام وخاص سب پر لاگو ہوتی ہیں۔
اس سے کم درجہ کی غلطیاں اگر غفلت سے یا پہلی بار سرزد ہوں اور قاضی یا منتظمین محسوس کریں کہ زبانی تنبیہ ہی کافی ہے تو انہیں معاف کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی عادی مجرم ہو یا اس کے معاملے سے محسوس ہو کہ وہ اپنے عمل پر کوئی عار محسوس نہیں کر رہا ہے تو سزا دینی چاہئے۔
شرعی حدود بلااستثنا عام وخاص سب پر لاگو ہوتی ہیں۔
اس سے کم درجہ کی غلطیاں اگر غفلت سے یا پہلی بار سرزد ہوں اور قاضی یا منتظمین محسوس کریں کہ زبانی تنبیہ ہی کافی ہے تو انہیں معاف کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی عادی مجرم ہو یا اس کے معاملے سے محسوس ہو کہ وہ اپنے عمل پر کوئی عار محسوس نہیں کر رہا ہے تو سزا دینی چاہئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4375 سے ماخوذ ہے۔