حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— حدود کے مسائل
باب حد الشارب وبيان المسكر باب: شراب پینے والے کی حد اور نشہ آور چیزوں کا بیان
حدیث نمبر: 1073
وعن أم سلمة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» أخرجه البيهقي وصححه ابن حبان.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ عزوجل نے جو چیز تمہارے لئے حرام قرار دے دی ہے اس میں تمہارے لئے شفاء نہیں رکھی ۔ “ اسے بیہقی نے تخریج کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´شراب پینے والے کی حد اور نشہ آور چیزوں کا بیان`
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ عزوجل نے جو چیز تمہارے لئے حرام قرار دے دی ہے اس میں تمہارے لئے شفاء نہیں رکھی۔ “ اسے بیہقی نے تخریج کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1073»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ عزوجل نے جو چیز تمہارے لئے حرام قرار دے دی ہے اس میں تمہارے لئے شفاء نہیں رکھی۔ “ اسے بیہقی نے تخریج کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1073»
تخریج:
«أخرجه البيهقي:10 /5، وابن حبان (الموارد)، حديث:1397، والحديث الآتي شاهد له.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی بھی حرام چیز میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی شفا نہیں رکھی۔
اور ہر نشہ آور چیز چونکہ حرام ہے‘ اس لیے اس کا برائے علاج استعمال بھی ناجائز ہے۔
«أخرجه البيهقي:10 /5، وابن حبان (الموارد)، حديث:1397، والحديث الآتي شاهد له.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی بھی حرام چیز میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی شفا نہیں رکھی۔
اور ہر نشہ آور چیز چونکہ حرام ہے‘ اس لیے اس کا برائے علاج استعمال بھی ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1073 سے ماخوذ ہے۔