حدیث نمبر: 1071
وعن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : «ما أسكر كثيره فقليله حرام »أخرجه أحمد والأربعة وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ۔ “ اس کی تخریج احمد اور چاروں نے کی ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 1071
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الأشربة، باب ما جاء في السكر، حديث:3681، والترمذي، الأشربة، حديث:1865، وابن ماجه، الأشربة، حديث:3393، وأحمد"2 /167، 178، 3 /112، 343، والنسائي، الأشربة، حديث:5610، وابن حبان.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1865 | سنن ابي داود: 3681 | سنن ابن ماجه: 3393

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´شراب پینے والے کی حد اور نشہ آور چیزوں کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔ اس کی تخریج احمد اور چاروں نے کی ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1071»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأشربة، باب ما جاء في السكر، حديث:3681، والترمذي، الأشربة، حديث:1865، وابن ماجه، الأشربة، حديث:3393، وأحمد"2 /167، 178، 3 /112، 343، والنسائي، الأشربة، حديث:5610، وابن حبان.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی استعمال کرنا حرام ہے۔
احناف کی رائے یہ ہے کہ جس گھونٹ سے نشہ آئے وہ تو حرام ہے لیکن اس سے پہلے جتنی بھی مقدار میں شراب پی لی جائے، اگر وہ نشہ آور نہیں تو حلال ہی ہے‘ حالانکہ یہ حدیث صراحتاً ان حضرات کے اس قول کی تردید کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1071 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1865 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1865]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے، اس سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خمر تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے، اس کے علاوہ دیگر نشہ آور اشیاء کی صرف وہ مقدار حرام ہے جس سے نشہ پیدا ہو اور جس مقدار میں نشہ نہ پیداہو وہ حرام نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1865 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3681 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3681]
فوائد ومسائل:
اس حدیث مبارک میں صراحت کر دی گئی ہے۔
کہ ہر نشہ آور چیز اس کی نوعیت خواہ کچھ ہو۔
وہ مقدار میں تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہی ہے۔
اور یہ کہنا یا سمجھنا کہ انگور کی ہو تو حرام ہے۔
اور دوسری قسم کی ہو تو اس کا اتنی مقدار میں پینا حلال ہے۔
جس سے نشہ پیدا نہ ہو۔
فرمان رسول ﷺ کے خلاف ہے۔
اس لئے محقق اطباء اور علمائے محدثین کے نزدیک ہومیو پیتھک۔
ایلو پیتھک۔
یا یونانی ادویہ جن میں الکحل۔
افیون۔
شراب یا کوئی بھی اسی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہو۔
اس سے علاج کرنا حرام ہے۔
اور جمہورعلماء کا یہی مذہب ہے۔
چنانچہ صحیح بخاری میں تعلیقاً اور معجم کبیر میں مرفوعاً حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا! إن الله لم يجعل شفاءَكُم فيما حَرَّمَ عليكُم (صحیح البخاري، الأشربة، قبل حدیث: 5614 والمعجم الکبیر للطبراني: 345/9) نیز ان جیسی دیگر روایات اور نصوص سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے۔
کہ پلید اور حرام چیزوں کے ساتھ علاج ممنوع ہے۔
بعض علماء نے حرام اور پلید چیزوں سے علاج کو جائز قرار دیا ہے۔
تو انہوں نے اسے مضطر کےلئے مردار اور خون کے استعمال کے جواز پر قیاس کیا ہے۔
لیکن نص کے خلاف ہونے کی وجہ سے یہ قیاس کمزور ہے۔
لہذا یہ قیاس مع الفارق ہے۔
کیونکہ مردار اور خون کھانے سے ضرورت زائل ہوجاتی ہے۔
اور اس سے جان کی حفاظت ہوجاتی ہے۔
جبکہ حرام اور پلید چیز کے استعمال سے شفا یقینی نہیں۔
اور ضروری نہیں کہ مرض کا ازالہ ہوجائے۔
بلکہ رسول اللہ ﷺنے تو یہ خبردی ہے کہ یہ دوا نہیں۔
لہذا اس سے علاج بھی صحیح نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3681 سے ماخوذ ہے۔