حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1044
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به ومن وجدتموه وقع على بهيمة فاقتلوه واقتلوا البهيمة ». رواه أحمد والأربعة ورجاله موثقون إلا أن فيه اختلافا.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ’’ جس شخص کو تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کے فعل کا مرتکب ہو تو فاعل اور مفہول دونوں کو قتل کر دو ۔ اور جس کسی کو پاؤ کہ وہ جانوروں کے ساتھ بدفعلی کا مرتکب ہوا تو اس مرد اور جانور دونوں کو مار ڈالو ۔ ‘‘ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے ۔ اس کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔ مگر اس میں اختلاف ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4463 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اغلام بازی (قوم لوط کے فعل) کی سزا کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4463]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4463]
فوائد ومسائل:
خلاف وضح فطری عمل کرنے پر مذکورہ بالا روایات کی روشنی میں دونوں ہی طرح کےفتوے دیے جاتے ہیں۔
خلاف وضح فطری عمل کرنے پر مذکورہ بالا روایات کی روشنی میں دونوں ہی طرح کےفتوے دیے جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4463 سے ماخوذ ہے۔