حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1018
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قتل رجل رجلا على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فجعل النبي صلى الله عليه وآله وسلم ديته اثني عشر ألفا. رواه الأربعة ورجح النسائي وأبو حاتم إرساله.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ( درہم ) طے فرمائی ۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے ، نسائی اور ابوحاتم نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´اقسام دیت کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) طے فرمائی۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے، نسائی اور ابوحاتم نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1018»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) طے فرمائی۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے، نسائی اور ابوحاتم نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1018»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الديات، باب الدية كم هي، حديث:4546، والترمذي، الديات، حديث:1388، والنسائي، القسامة، حديث:4807، وابن ماجه، الديات، حديث:2629.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کے پاس اونٹ نہ ہوں تو دیت نقدی کی صورت میں بھی دی جاسکتی ہے‘ وہ مروج سکہ خواہ دینار ہو یا درہم یا نوٹ وغیرہ۔
اور نقدی اونٹوں کی قیمت کے بقدر ہوگی۔
«أخرجه أبوداود، الديات، باب الدية كم هي، حديث:4546، والترمذي، الديات، حديث:1388، والنسائي، القسامة، حديث:4807، وابن ماجه، الديات، حديث:2629.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کے پاس اونٹ نہ ہوں تو دیت نقدی کی صورت میں بھی دی جاسکتی ہے‘ وہ مروج سکہ خواہ دینار ہو یا درہم یا نوٹ وغیرہ۔
اور نقدی اونٹوں کی قیمت کے بقدر ہوگی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1018 سے ماخوذ ہے۔