حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 1012
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « ألا إن دية الخطأ وشبه العمد ما كان بالسوط والعصا مائة من الإبل منها أربعون في بطونها أولادها ». أخرجه أبو داود والنسائي وابن ماجه وصححه ابن حبان.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ قتل خطا کی دیت شبہ عمد ( کی دیت ہے ) جو کوڑے اور لاٹھی سے ( مارا گیا ) ہو ۔ اس کی دیت سو اونٹ ہے ۔ ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے پرورش پا رہے ہوں گے ۔ “ اسے ابوداؤد ، نسائی اور ابن ماجہ نے نکالا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4547 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسدد کی روایت کے مطابق) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ” اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی “ (یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4547]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسدد کی روایت کے مطابق) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ” اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی “ (یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4547]
فوائد ومسائل:
قتل خطا شبہ عمد کی دیت کا یہ باب اس مقام پر بعض نسخوں کے اعتبار سے ہے، ورنہ اکثر نسخوں میں یہ باب فیمن تطبب۔
۔
۔
کے بعد ہے، جیسا کہ اس نسخے میں بھی دوبارہ یہ باب وہاں موجو د ہے، قتل کی تین قسمیں ہیں۔
قتل عمد (جو قصدجان بوجھ کر ہو) قتل خطا (جو بلا قصد وارادہ ہو جائے) قتل خطا شبہ العمد یعنی مارنے والے نے قصد کوئی ایسی چیز ماری جس سے کوئی مرتا نہیں ہے۔
نہ اس کی نیت ہی اسے قتل کرنے کی تھی۔
مثلا لاٹھی، کوڑا یا پتھر مارا جس سے آدمی عموما مرتا نہیں ہے، مگر اتفاقا مضروب مر گیا۔
قتل خطا شبہ عمد کی دیت کا یہ باب اس مقام پر بعض نسخوں کے اعتبار سے ہے، ورنہ اکثر نسخوں میں یہ باب فیمن تطبب۔
۔
۔
کے بعد ہے، جیسا کہ اس نسخے میں بھی دوبارہ یہ باب وہاں موجو د ہے، قتل کی تین قسمیں ہیں۔
قتل عمد (جو قصدجان بوجھ کر ہو) قتل خطا (جو بلا قصد وارادہ ہو جائے) قتل خطا شبہ العمد یعنی مارنے والے نے قصد کوئی ایسی چیز ماری جس سے کوئی مرتا نہیں ہے۔
نہ اس کی نیت ہی اسے قتل کرنے کی تھی۔
مثلا لاٹھی، کوڑا یا پتھر مارا جس سے آدمی عموما مرتا نہیں ہے، مگر اتفاقا مضروب مر گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4547 سے ماخوذ ہے۔