وعن أبي هريرة قال : اقتتلت امرأتان من هذيل فرمت إحداهما الأخرى بحجر فقتلتها وما في بطنها . فاختصموا إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن دية جنينها غرة عبد أو وليدة وقضى بدية المرأة على عاقلتها وورثها ولدها ومن معهم فقال حمل بن النابغة الهذلي : يا رسول الله كيف يغرم من لا شرب ولا أكل ولا نطق ولا استهل ؟ فمثل ذلك يطل فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إنما هذا من إخوان الكهان» من أجل سجعه الذي سجع. متفق عليه. وأخرجه أبو داود والنسائي من حديث ابن عباس : أن عمر سأل من شهد قضاء رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الجنين ؟ قال : فقام حمل بن النابغة فقال : كنت بين يدي امرأتين فضربت إحداهما الأخرى ". فذكره مختصرا وصححه ابن حبان والحاكم.´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں اور ایک نے دوسری پر پتھر دے مارا ۔ اس پتھر سے وہ عورت اور اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا تو اس کے وارث مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ’’ جنین کے بدلے ایک لونڈی یا غلام ہے اور عورت کے بدلے قاتل کے وارثوں پر دیت عائد فرما دی اور اس کے خون بہا کا وارث اس کی اولاد کو بنایا اور ان وارثوں کو بھی جو ان کے ساتھ تھے ۔ “ حمل بن نابغہ ھذلی نے کہا ’’ اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم ایسے بچے کا بدلہ کیسے دیں جس نے نہ پیا ، نہ کھایا ، نہ بولا اور نہ چیخا ۔ اس طرح کا حکم تو قابل اعتبار نہیں ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس نے تو کاہنوں کی سی قافیہ بندی کی ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم ) ابوداؤد اور نسائی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کون شخص جنین کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موقع پر حاضر تھا ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حمل بن نابغہ کھڑا ہوا اور بیان کیا کہ میں اس وقت ان دو عورتوں کے درمیان تھا ، جب ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا تھا ۔ پھر مختصر حدیث کا ذکر کیا ۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں اور ایک نے دوسری پر پتھر دے مارا۔ اس پتھر سے وہ عورت اور اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا تو اس کے وارث مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ’’ جنین کے بدلے ایک لونڈی یا غلام ہے اور عورت کے بدلے قاتل کے وارثوں پر دیت عائد فرما دی اور اس کے خون بہا کا وارث اس کی اولاد کو بنایا اور ان وارثوں کو بھی جو ان کے ساتھ تھے۔ “ حمل بن نابغہ ھذلی نے کہا ’’ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم ایسے بچے کا بدلہ کیسے دیں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا اور نہ چیخا۔ اس طرح کا حکم تو قابل اعتبار نہیں۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس نے تو کاہنوں کی سی قافیہ بندی کی ہے۔ “ (بخاری و مسلم) ابوداؤد اور نسائی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کون شخص جنین کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موقع پر حاضر تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حمل بن نابغہ کھڑا ہوا اور بیان کیا کہ میں اس وقت ان دو عورتوں کے درمیان تھا، جب ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا تھا۔ پھر مختصر حدیث کا ذکر کیا۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1002»
«أخرجه البخاري، الطب، باب الكهانة، حديث:5758، ومسلم، القسامة، باب دية الجنين، حديث:1681، وحديث ابن عباس: أخرجه أبوداود، الديات، حديث:4572، والنسائي، القسامة، حديث:4822، 4832، وابن حبان (الإحسان): 7 /605، حديث:5989، والحاكم.»
تشریح: وضاحت: «حضرت حمل بن نابغہ رضی اللہ عنہ» (’’حا‘‘ اور ’’میم‘‘ دونوں پر فتحہ ہے) حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی صحابی ہیں۔
أبونَضْلہ ان کی کنیت تھی اور بصرہ کے رہائشی تھے۔
(1)
اگرچہ ان احادیث میں والد کا ذکر نہیں ہے لیکن اس حدیث کے دوسرے طرق میں والد کی صراحت ہے،یعنی مقتولہ عورت کی دیت قاتلہ کے والد اور اس کے دیگر عصبات کے ذمے ہے،اس کے لڑکے پر نہیں ہوگی،نیز ذوالارحام کے ذمے بھی دیت نہیں ہوگی اسی وجہ سے مادری بھائی بھی دیت ادا نہیں کریں گے۔
(فتح الباری: 12/315) (2)
ایک روایت میں صراحت ہے: \" جب ایک عورت کے مارنے سے دوسری عورت اور اس کے پیٹ کا بیٹا فوت ہوگیا تو اس کا خاوند قاتلہ کے والد کے پاس گیا اور اپنی بیوی اور بیٹے کی دیت کا اس سے مطالبہ کیا۔
قاتلہ کے باپ نے کہا: اس کی دیت اس کے بیٹوں کے ذمے ہے جو بنو لحیان قبیلے کے سردار ہیں، پھر یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فیصلہ دیا کہ عورت کی دیت قاتلہ کے ددھیال کے ذمے ہے اور بچے کی دیت غلام یا کنیز دینا ہے۔
\"(السنن الکبریٰ للبیھقی: 8/108)
لڑنے والی دونوں عورتیں سیدنا حمل بن نابغہ رضی اللہ عنہ کی بیویاں تھیں، ان میں سے ایک حاملہ تھی،دوسری نے خیمے کا بانس مارا جس سے وہ حاملہ اور اس کا بچہ فوت ہوگیا۔w
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ آپ نے ترکہ عورت کے خاوند اوربیٹوں کو دلایا تو معلوم ہوا کہ خاوند اولاد کے ساتھ وارث ہوتا ہے اور جب خاوند اولاد کے ساتھ اپنی عورت کا وارث ہوا تو عورت بھی اولاد کے ساتھ اپنے خاوند کی وارث ہوگی۔
(الحمد للہ آج مسجد اہل حدیث رانی بنور میں نظر ثانی کا کام یہاں تک پورا کیا گیا۔
یوم جمعہ 13 شوال 1396ھ)
(1)
قبیلۂ بنو لحیان کی دوعورتیں لڑ پڑیں۔
ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا تو دوسری کے پیٹ میں جو بچہ تھا وہ مرگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مارنے والی پر تاوان ڈالا کہ وہ ایک غلام یا لونڈی ادا کرے۔
(2)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ بیوی کسی حالت میں بھی وراثت سے محروم نہیں رہتی۔
اس کی درج ذیل دوحالتیں ہیں: ٭جب فوت شدہ خاوند کی اولاد یا نرینہ اولاد کی اولاد نہ ہوتو بیوی کو ترکے میں سے 1/4 ملتا ہے۔
قرآن مجید میں ہے: ’’اگر تمھاری اولاد نہ ہوتو ان بیویوں کے لیے تمھارے ترکے کا 1/4 ہے۔
‘‘ (النساء 4: 12)
٭ اگر مرنے والے خاوند کی اولاد یا نرینہ اولاد کی اولاد نہ ہو تو بیوی کو ترکے میں سے 1/8 ملتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو تمھاری بیویاں تمھارے ترکے سے 1/8 کی حق دار ہوں گی۔
‘‘ (النساء 4: 12)
واضح رہے کہ بیوی ایک ہو یا متعدد ان کا مقررہ حصہ وہی ہے جو آیات بالا میں بیان ہوا ہے متعدد ہونے کی صورت میں اس مقررہ حصے کو تقسیم کریں گے، نیز رجعی طلاق کی عدت میں بھی عورت وارث ہوگی۔
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ کے استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ جب خاوند اولاد کے ساتھ اپنی بیوی کا وارث ہوا تو بیوی بھی اولاد کے ہمراہ اپنے خاوند کے ترکے سے حصہ پائے گی، جبکہ تاوان وغیرہ کنبے والوں کو ادا کرنا پڑتا ہے کیونکہ تنگی اور آسانی میں قبیلے والے ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔
واللہ أعلم
۔
(1)
دور جاہلیت میں کاہنوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنے باطل کلام کو مسجع اور قافیہ بند عبارت سے مزین کرتے تاکہ باطل، اس عبارت میں دب جائے اور اس کی حقیقت نہ کھل سکے اور لوگوں کو وہم میں مبتلا کرتے تھے کہ اس میں نفع ہے۔
اس حدیث میں مذکور اس شخص نے بھی یہی کام کیا تھا کہ مسجع عبارت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو رد کرنے کی کوشش کی، اس لیے وہ مذمت کا مستحق ہوا۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی اور سزا نہ دی کیونکہ آپ کو جاہلوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔
(2)
اس حدیث سے کہانت پیشہ کی مذمت ہے اور ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو الفاظ و عبارت پیش کرنے میں کہانت پیشہ لوگوں کی نقالی کرتے ہیں۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ فرمایا وہی برحق تھا، باقی اس شخص کی بکواسات تھیں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہانت سے تشبیہ دے کر کہانت کی طرح باطل ٹھہرایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبریں بتانے کو شیطانی کام قرار دیا ہے، (سنن أبي داود، الطب، حدیث: 3907)
لہذا کاہنوں، یعنی مستقبل کی خبریں بتانے والوں، نجومیوں اور دست شناسوں کے پاس جانا، ان سے خبریں دریافت کرنا، پھر ان کی تصدیق کرنا حرام اور ناجائز ہے۔
شریعت نے اس قسم کے توہمات کو باطل ٹھہرایا ہے۔
واللہ أعلم
و إنما لم یعاقبه لأنه صلی اللہ علیه وسلم کان مأمورا بالصفح من الجاھلین و في الحدیث منه الفوائد أیضا رفع الجنابة للحاکم و وجب الدیة للجنین ولو خرج میتا (فتح)
یعنی حمل بن مالک کے اس کہنے پر آپ نے اس کو کوئی عتاب نہیں فرمایا اس لیے کہ جاہلوں سے در گزر کرنا اسی کے لیے آپ مامور تھے اس حدیث میں بہت سے فوائد ہیں جیسے مقدمہ حاکم کے پاس لے جانا اور جنین اگرچہ مردہ پیدا ہوا ہو مگر اس کی دیت کا واجب ہونا یہ بھی معلوم ہوا کہ اس شخص کا بیان شاعرانہ تخیل تھا حقیقت میں اس کی کوئی اصلیت نہ تھی۔
ماری ہے اس لئے آگے پتھر کی بجائے خیمے کی لکڑی مارنے کا ذکر ہے دونوں میں کوئی تضاد نہیں، بعض راویوں نے ایک چیز کا نام اور بعض نے دوسری چیز کا نام لیا۔
جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا تو آپﷺ نے تاوان میں غلام یا لونڈی دینے کا حکم دیا اور یہ تاوان جرم کرنے والی کی عاقلہ یعنی اس کے باپ کی طرف سے اس کے رشتہ داروں پر ڈالا، لیکن جب وہ مری تو اس کی وراثت اس کی عاقلہ کی بجائے، اس کے بیٹوں اور اس کے خاوند میں تقسیم کی، اس کی عاقلہ کو وارث نہیں ٹھہرایا اور یہ دونوں عورتیں یکے بعد دیگرے فوت ہو گئیں تھیں، اس لیے اگلی روایت کے ساتھ اس کا تعارض نہیں ہے، ان کے ذہن میں یہ خلجان پیدا ہوا کہ دیت ہم دیں، لیکن وراثت میں ہمارے لیے کوئی حصہ نہ ہو۔
(1)
جنين: وہ بچہ جو پیٹ میں ہے، کیونکہ وہ اوجھل ہوتا ہے، اگر زندہ پیدا ہوا تو اس کو وَلَد کہتے ہیں اور مردہ پیدا ہو تو سقط کہلاتا ہے اور اس کو جنین بھی کہہ دیتے ہیں، بشرطیکہ وہ بچہ بن چکا ہو۔
(2)
غرة: پیشانی کی سفیدی کو کہتے ہیں، اس لیے اس کا اطلاق اعلیٰ اور عمدہ چیز پر ہو جاتا ہے، لیکن اس حدیث میں اس سے مراد غلام یا لونڈی ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جنين» (حمل) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی (دینے) کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا وہ کہنے لگا: کیا ایسے کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ چیخا، نہ آواز نکالی، اس طرح کا خون تو ضائع اور باطل ہو جاتا ہے، (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ شاعروں والی بات کر رہا ہے ۱؎، «جنين» (حمل گرا دینے) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینا ہے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1410]
وضاحت:
1؎:
چونکہ اس آدمی نے ایک شرعی حکم کورد کرنے اور باطل کو ثابت کرنے کے لیے بتکلف قافیہ دار اور مسجع بات کہی، اسی لیے نبی اکرمﷺنے اس کی مذمت کی، اگر مسجع کلام سے مقصود یہ نہ ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں، رسول اللہ ﷺ کا بعض کلام مسجع ملتا ہے، یہ اور بات ہے کہ ایسا آپ کی زبان مبارک سے اتفاقاً بلاقصد و ارادہ نکلا ہے۔
2؎:
یہ اس صورت میں ہوگا جب بچہ پیٹ سے مردہ نکلے اور اگر زندہ پیدا ہو پھر پیٹ میں پہنچنے والی مار کے اثر سے وہ مرجائے تو اس میں دیت یا قصاص واجب ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی عورت کے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) کے بارے میں جو مرا ہوا ساقط ہو گیا تھا ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، پھر وہ عورت جس پر ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا حکم ہوا، مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کی میراث اس کے بیٹوں اور اس کے شوہر کے لیے ہے اور دیت اس کے عصبہ پر ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4821]
(2) اس حدیث مبارکہ کے الفاظ [إنَّ المرأة التي قضى عليها بالغُرَّةِ توُفِّيَت] سے بعض اہل علم کو یہ وہم ہوا ہے کہ اس سے مراد قاتلہ ہے، اس لیے انھوں نے ان الفاظ کے معنیٰ کیے ہیں: ”پھر جس عورت کے ذمے غرہ (دینے) کا فیصلہ کیا گیا تھا، وہ مر گئی۔“ یہ بات درست نہیں بلکہ حقیقت واقعہ کے خلاف ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مرنے والی قاتلہ نہیں بلکہ وہ تھی جس کا جنین گرایا گیا تھا کیونکہ احادیث صحیحہ میں یہ صراحت موجود کہ مرنے والی قاتلہ نہیں بلکہ دوسری تھی جسے پتھر مار کر اس کا جنین گرا دیا گیا تھا اور اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ حدیث کے الفاظ ہیں: [اقْتَتَلَتِ امْرَأَتانِ مِن هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إحْداهُما الأُخْرى بحَجَرٍ فَقَتَلَتْها وما في بَطْنِها] ”ہذیل قبیلے کی دو عورتیں لڑ پڑیں۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اسے قتل کر دیا اور اس بچے کو بھی جو اس کے پیٹ میں تھا۔“ (صحیح البخاري، الدیات، باب جنین المراة… حدیث: 6910، وصحیح مسلم، القسامة والمحاربین، باب دیة الجنین…، حدیث: 1681 (36) التي قضى عليها بالغُرَّةِ کا مفہوم ہے: التي قضى لها بالغُرَّةِ۔ مطلب یہ کہ علیھا بمعنیٰ لھا ہے۔ صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں: [ثم ان المراۃ التی قضی لھا بالغرۃ توفیت] دیکھیے: (صحیح البخاري، الفرائض، باب میراث المرأة والزوج مع الولد وغیرہ، حدیث: 6740) بعض اہل علم کو حدیث مبارکہ کے آخری جملے [قضی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بان میراثھا لبنیھا وزوجھا، وان العقل علی عصبتھا] سے یہ وہم لگا ہے کہ مرنے والی قاتلہ ہی ہے۔ اسی کی وراثت کے حق دار اس کے بیٹے اور اس کا خاوند ہیں اور اس کی دیت اس کے عصبہ کے ذمہ ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث سے اس شبہ اور وہم کا کلیتاً ازالہ ہو جاتا ہے۔ اس کے الفاظ اس قدر واضح اور صریح ہیں کہ وہم کا تصور ہی نہیں ہوتا۔ الفاظ یہ ہیں: [فجَعَل النَّبيُّ ﷺ دِيَةَ المقتولةِ على عَصَبةِ القاتلةِ، وغُرَّةً لِما في بَطْنِها] ”پھر رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت، قاتلہ کے عصبہ کے ذمے لگائی اور اس (مقتولہ) کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک غرہ مقرر فرمائی۔“ (صحیح مسلم، القسامة، والمحاربین، باب دیة الجنین…، حدیث: 1682) مذکورہ بالا تصریحات سے تمام شبہات ختم ہو جاتے ہیں۔
(3) قتل خطا شبہ عمد میں دیت قاتل کے ذمے ہوتی ہے لیکن اس کی ادائیگی میں اس کے تمام نسبی رشتہ دار شریک ہوں گے۔ قانونی طور پر ان سب کے ذمے قسط وار رقم مقرر کی جائے گی اور وہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے کیونکہ قتل خطا میں قاتل قصور وار نہیں ہوتا یا زیادہ قصور وار نہیں ہوتا۔ البتہ عمد کی صورت میں دیت قاتل کے ذمے ہوگی اور وہی ادائیگی کا ذمہ دار ہے کیونکہ وہ مکمل قصور وار ہوتا ہے، لہٰذا اسے ہی سزا بھگتنا ہوگی۔ واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں جھگڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک مارا، اور کوئی ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ وہ عورت مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی، چنانچہ وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: اس کے جنین (پیٹ کے بچہ) کی دیت ایک غرہ ہے یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی۔ اور (قاتل) عورت کی دیت اس کے کنبے کو لوگوں (عصبہ) سے دلائی اور اس عورت کا وار۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4822]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین (پیٹ کے بچے کی دیت) میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ فرمایا، تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ بولا: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا ہو نہ کھایا ہو، نہ چیخا ہو نہ چلایا ہو، ایسے کی دیت کو تو لغو مانا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ تو شاعروں جیسی بات کرتا ہے؟ پیٹ کے بچہ میں ایک غلام یا لونڈی (دیت) ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2639]
فوائد و مسائل:
(1)
جنین سے مراد وہ بچہ ہے جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہو، پیدا نہ ہوا ہو۔
(2)
بعض اوقات حاملہ عورت کے پیٹ پرچوٹ لگ جائے تو اس سے بچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے اور وہ پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو کر مردہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے یہ بھی قتل شمار ہوتا ہے۔
(3)
ایسے بچے کا حکم عام مقتول کا نہیں، اس کی دیت بھی سو اونٹ نہیں بلکہ صرف ایک غلام یا لونڈی ہے، البتہ اگر اس کی ماں بھی اس چوٹ سے فوت ہو جائے تو اس عورت کی پوری دیت ہوگی۔
(4)
شرعی حکم کے مقابلے میں قبائلی رسم و رواج کی کوئی حیثیت نہیں۔
(5)
شاعروں والی باتوں سے یہی مراد ہے کہ جس طرح عام شاعر جھوٹ موٹ اور غیر سنجیدہ باتیں کرتے ہیں، ان کی عملی دنیا میں کوئی قیمت نہیں ہوتی، اسی طرح یہ باتیں بھی بے کار ہیں، ان کی وجہ سے قانون تبدیل نہیں ہوسکتا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جنین (پیٹ کے بچے) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تلاش کیا، تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا جس سے وہ اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا دونوں مر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین (پیٹ کے بچہ) میں ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا، اور عورت کو عورت کے قصاص میں قتل کا فیصلہ فرمایا ” ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2641]
فوائد مسائل: (1)
اصل قانون رسول اللہﷺ کا قول و عمل ہی ہے۔
(2)
اگر کسی مسئلے میں دلیل معلوم نہ ہوتو قرآن و حدیث سے دلیل تلاش کرنا ضروری ہے۔
(3)
حاملہ عورت کا قتل دو انسانوں کا قتل ہے، یعنی ماں اور بچے کا قتل۔
عورت کا حکم تو عام قتل ہی کا ہوگا، یعنی قصاص یا پوری دیت، مگر پیٹ کےبچےکی دیت صرف ایک غلام یا ایک لونڈی ہوگی۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو سوکن عورتیں تھیں، ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا، ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا، تو اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا گر پڑا جس کے سر کے بال اگ آئے تھے اور عورت بھی مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنبے والوں پر دیت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس (مقتولہ) کے چچا نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ایک بچہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4832]
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مر گئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «مسطح» چوپ یعنی (روٹی پکانے کی لکڑی) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا: «مسطح» خیمہ کی لکڑیوں میں سے ای۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4572]
بھاری لکڑی سے مار قتل عمد میں شمار ہو سکتا ہے۔