کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الجن میں) ارشاد کہ ”وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب کو کسی پر نہیں کھولتا“۔
حدیث نمبر: Q7379
قَالَ يَحْيَى الظَّاهِرُ : عَلَى كُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا وَالْبَاطِنُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا .
مولانا داود راز
اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ لقمان میں ) فرمایا «إن الله عنده علم الساعة» ” بلاشبہ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے ۔ “ اور «أنزله بعلمه» ” اس نے اپنے علم ہی سے اسے نازل کیا ۔ “ «ما تحمل من أنثى ولا تضع إلا بعلمه» ” اور عورت جسے اپنے پیٹ میں اٹھاتی ہے اور جو کچھ جنتی ہے وہ اسی کے علم کے مطابق ہوتا ہے “ «إليه يرد علم الساعة» ” اور اسی کی طرف قیامت میں لوٹایا جائے گا ۔ “ یحییٰ بن زیادہ فراء نے کہا ہر چیز پر ظاہر ہے یعنی علم کی وجہ سے اور ہر چیز پر باطن ہے یعنی علم کی وجہ سے ۔
حدیث نمبر: 7379
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ : لَا يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” غیب کی پانچ کنجیاں ہیں ، جنہیں اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم مادر میں کیا ہے ، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا ، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی ، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس جگہ کوئی مرے گا اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی ۔ “
حدیث نمبر: 7380
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ ، وَهُوَ يَقُولُ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ سورة الأنعام آية 103 وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے شعبی نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` اگر تم سے کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خود کہتا ہے کہ نظریں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اور جو کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ۔