کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمان ”اے پیغمبر! تجھ کو اس کام میں کوئی دخل نہیں“ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: 7346
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الْأَخِيرَةِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے ، انہیں زہری نے ، انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں یہ دعا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پڑھتے تھے «اللهم ربنا ولك الحمد» ” اے اللہ ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے اللہ ! فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے ۔ “ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی کہ آپ کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ! ان کی توبہ قبول کر لے یا انہیں عذاب دے کہ بلاشبہ وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 7346
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة