کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے مردوں و عورتوں کو وہی باتیں سکھانا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں باقی رائے اور تمثیل آپ نے نہیں سکھائی۔
حدیث نمبر: 7310
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : اجْتَمِعْنَ ، فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَاجْتَمَعْنَ ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوِ اثْنَيْنِ ، قَالَ : فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی نے ، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا : یا رسول اللہ ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے ، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی ۔ ( یعنی ان کی وفات ہو جائے گی ) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے ۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا : یا رسول اللہ ! دو ؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں دو ، دو ، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 7310
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة