فہرستِ ابواب — صحيح البخاري

( بَابٌ: )

باب:۔۔۔

حدیث 7268–7272

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ»:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ «جوامع الكلم» کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔

حدیث 7273–7274

بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا۔

حدیث 7275–7288

بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ:

باب: بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے۔

حدیث 7289–7297

بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِأَفْعَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں کی پیروی کرنا۔

حدیث 7298–7298

بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ:

باب: کسی امر میں تشدد اور سختی کرنا۔

حدیث 7299–7305

بَابُ إِثْمِ مَنْ آوَى مُحْدِثًا:

باب: جو شخص بدعتی کو ٹھکانا دے، اس کو اپنے پاس ٹھہرائے۔

حدیث 7306–7306

بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَمِّ الرَّأْيِ وَتَكَلُّفِ الْقِيَاسِ:

باب: دین کے مسائل میں رائے پر عمل کرنے کی مذمت، اسی طرح بےضرورت قیاس کرنے کی برائی۔

حدیث 7307–7308

بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ مِمَّا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَيَقُولُ: «لاَ أَدْرِي»:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسئلہ رائے یا قیاس سے نہیں بتلایا۔

حدیث 7309–7309

بَابُ تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، لَيْسَ بِرَأْيٍ وَلاَ تَمْثِيلٍ:

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے مردوں و عورتوں کو وہی باتیں سکھانا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں باقی رائے اور تمثیل آپ نے نہیں سکھائی۔

حدیث 7310–7310

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ». وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”میری امت کی ایک جماعت حق پر غالب رہے گی اور جنگ کرتی رہے گی“ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس گروہ سے دین کے عالموں کا گروہ مراد ہے۔

حدیث 7311–7312

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا} :

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الانعام میں) یوں فرمانا ”یا وہ تمہارے کئی فرقے کر دے“۔

حدیث 7313–7313

بَابُ مَنْ شَبَّهَ أَصْلاً مَعْلُومًا بِأَصْلٍ مُبَيَّنٍ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ حُكْمَهُمَا، لِيُفْهِمَ السَّائِلَ:

باب: ایک امر معلوم کو دوسرے امر واضح سے تشبیہ دینا جس کا حکم اللہ نے بیان کر دیا ہے تاکہ پوچھنے والا سمجھ جائے۔

حدیث 7314–7315

بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:

باب: قاضیوں کو کوشش کر کے اللہ کی کتاب کے موافق حکم دینا چائیے۔

حدیث 7316–7318

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ»:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اے مسلمانو! تم اگلے لوگوں کی چال پر چلو گے“۔

حدیث 7319–7320

بَابُ إِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ أَوْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً:

باب: اس کا گناہ جو کسی گمراہی کی طرف بلائے یا کوئی بری رسم قائم کرے۔

حدیث 7321–7321

بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان۔

حدیث 7322–7345

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} :

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمان ”اے پیغمبر! تجھ کو اس کام میں کوئی دخل نہیں“ آخر آیت تک۔

حدیث 7346–7346

بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً} :

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الکہف میں) ارشاد ”اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے“۔

حدیث 7347–7348

بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} :

باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”اور ہم نے اسی طرح تمہیں امت وسط بنا دیا ہے“۔

حدیث 7349–7349

بَابُ إِذَا اجْتَهَدَ الْعَامِلُ أَوِ الْحَاكِمُ فَأَخْطَأَ خِلاَفَ الرَّسُولِ مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ، فَحُكْمُهُ مَرْدُودٌ:

باب: جب کوئی عامل یا حاکم اجتہاد کرے اور لاعلمی میں رسول کے حکم کے خلاف کر جائے تو اس کا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا۔

حدیث 7350–7351

بَابُ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ:

باب: حاکم کا ثواب، جب کہ وہ اجتہاد کرے اور صحت پر ہو یا غلطی کر جائے۔

حدیث 7352–7352

بَابُ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ إِنَّ أَحْكَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ ظَاهِرَةً:

باب: اس شخص کا رد جو یہ سمجھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ہر ایک صحابی کو معلوم رہتے تھے۔

حدیث 7353–7354

بَابُ مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةً لاَ مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات کہی جائے اور آپ اس پر انکار نہ کریں جسے تقریر کہتے ہیں تو یہ حجت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کی تقریر پر حجت نہیں۔

حدیث 7355–7355

بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا:

باب: دلائل شرعیہ سے احکام کا نکالا جانا اور دلالت کے معنی اور اس کی تفسیر کیا ہو گی؟

حدیث 7356–7360

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”اہل کتاب سے دین کی کوئی بات نہ پوچھو“۔

حدیث 7361–7363

بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ:

باب: احکام شرع میں جھگڑا کرنے کی کراہت کا بیان۔

حدیث 7364–7366

بَابُ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلاَّ مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ:

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے۔

حدیث 7367–7368

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} :

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ شوریٰ میں) فرمانا ”مسلمانوں کا کام آپس کے صلاح اور مشورے سے چلتا ہے“ اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمان ”اے پیغمبر! ان سے کاموں میں مشورہ لے“۔

حدیث 7369–7370

اس باب کی تمام احادیث