کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 7155
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ كَانَ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن خالد ذہلی نے بیان کیا ، کہا ہم سے انصاری محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح رہتے تھے جیسے امیر کے ساتھ کوتوال رہتا ہے ۔
حدیث نمبر: 7156
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَهُ وَأَتْبَعَهُ بِمُعَاذٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قرہ نے ، ان سے حمید بن ہلال نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا ۔
حدیث نمبر: 7157
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ ، ثُمَّ تَهَوَّدَ ، فَأَتَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : مَا لِهَذَا ؟ ، قَالَ : " أَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ ، قَالَ : لَا أَجْلِسُ حَتَّى أَقْتُلَهُ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے محبوب بن الحسن نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے حمید بن ہلال نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک شخص اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا پھر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے اور وہ شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ۔ انہوں نے پوچھا اس کا کیا معاملہ ہے ؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا ، پھر انہوں نے کہا کہ جب تک میں اسے قتل نہ کر لو نہیں بیٹھوں گا ، یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ۔