کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا“۔
حدیث نمبر: 7092
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " قَامَ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : الْفِتْنَةُ هَا هُنَا الْفِتْنَةُ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، أَوْ قَالَ قَرْنُ الشَّمْسِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ان سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سالم نے ، ان سے ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے ایک طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا ” فتنہ ادھر ہے ، فتنہ ادھر ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یا سورج کا سینگ فرمایا ۔ “
حدیث نمبر: 7093
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَشْرِقَ ، يَقُولُ : أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی طرف رخ کئے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے ” آگاہ ہو جاؤ ، فتنہ اس طرف ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 7094
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَفِي نَجْدِنَا ؟ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يمننا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَفِي نجدنا ؟ ، فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ : هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن عون نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے اللہ ! ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے ، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے ۔ “ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ” اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے ، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے ۔ “ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں ؟ میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ” وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 7095
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا ، قَالَ : فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنِ الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ ، وَاللَّهُ يَقُولُ : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193 ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؟ ، إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً ، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا ، ان سے بیان ابن بصیر نے ، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے ۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا : اے ابوعبدالرحمٰن ! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے ؟ تمہاری ماں تمہیں روئے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے ، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے ۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی ؟