کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جب کسی نے اپنا بچا ہوا دودھ خواب میں کسی اور کو دیا۔
حدیث نمبر: 7027
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ :سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلَهُ عُمَرَ ، قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : الْعِلْمُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں سویا ہوا تھا کہ دودھ کا ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا اور اس میں سے اتنا پیا کہ سیرابی کو میں نے ہر رگ و پے میں پایا ۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا ۔ لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی ؟ فرمایا کہ علم اس کی تعبیر ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التعبير / حدیث: 7027
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة