کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ابراہیم علیہ السلام کے خواب کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6991
قَالَ مُجَاهِدٌ أَسْلَمَا سَلَّمَا مَا أُمِرَا بِهِ وَتَلَّهُ وَضَعَ وَجْهَهُ بِالْأَرْضِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ الصفات میں ) فرمایا ” پس جب اسماعیل ، ابراہیم ( علیہما السلام ) کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو ابراہیم نے کہا اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں پس تمہاری کیا رائے ہے ؟ اسماعیل نے جواب دیا : میرے والد ! آپ کیجئے اس کے مطابق جو آپ کو حکم دیا جاتا ہے ، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔ پس جب وہ دونوں تیار ہو گئے اور اسے پیشانی کے بل الٹا لٹا دیا اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم ! تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا بلاشبہ ہم اسی طرح احسان کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں ۔ “ مجاہد نے کہا کہ «أسلما‏» کا مطلب یہ ہے کہ دونوں جھک گئے اس حکم کے سامنے جو انہیں دیا گیا تھا «وتله‏» یعنی ان کا منہ زمین سے لگا دیا ، اوندھا لٹا دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التعبير / حدیث: Q6991