کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کوئی بلند مرتبہ شخص ہو یا کم مرتبہ سب پر برابر حد قائم کرنا۔
حدیث نمبر: 6787
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أُسَامَةَ كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ الْحَدَّ عَلَى الْوَضِيعِ ، وَيَتْرُكُونَ الشَّرِيفَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ فَعَلَتْ ذَلِكَ ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کی ( جس پر حدی مقدمہ ہونے والا تھا ) سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ وہ کمزوروں پر تو حد قائم کرتے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر فاطمہ ( رضی اللہ عنہا ) نے بھی ( چوری ) کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیتا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحدود / حدیث: 6787
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة