کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: جو کسی شخص کے بارے میں اپنا بھائی یا بھتیجا ہونے کا دعویٰ کرے۔
حدیث نمبر: 6765
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَام ، فَقَالَ سَعْدٌ : هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ ، قَالَتْ : فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہا کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے ، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا لڑکا ہے آپ اس کی مشابہت اس میں دیکھئیے اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا رسول اللہ ! میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی صورت دیکھی تو اس کی عتبہ کے ساتھ صاف مشابہت واضح تھی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عبد ! لڑکا بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں اور اے سودہ بنت زمعہ ! ( ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ) اس لڑکے سے پردہ کیا کر چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو نہیں دیکھا ۔