حدیث نمبر: Q6698
وَأَمَرَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَةً جَعَلَتْ أُمُّهَا عَلَى نَفْسِهَا صَلَاةً بِقُبَاءٍ ، فَقَالَ : صَلِّي عَنْهَا ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، نَحْوَهُ "
مولانا داود راز
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عورت سے ، جس کی ماں نے قباء میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی ، کہا کہ اس کی طرف سے تم پڑھ لو ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی یہی کہا تھا ۔
حدیث نمبر: 6698
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ : " أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيّ ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَأَفْتَاهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا " ، فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدُ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی ، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، انہیں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ باقی تھی اور ان کی موت نذر پوری کرنے سے پہلے ہو گئی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتویٰ دیا کہ نذر وہ اپنی ماں کی طرف سے پوری کر دیں ۔ چنانچہ بعد میں یہی طریقہ مسنونہ قرار پایا ۔
حدیث نمبر: 6699
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّ أُخْتِي قَدْ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاقْضِ اللَّهَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبشر نے ، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے ؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کا قرض پورا ادا کیا جائے ۔