کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اس آیت کا بیان کہ اللہ پاک بندے اور اس کے دل کے درمیان میں حائل ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6617
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَثِيرًا مِمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ : لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی ، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا کرتے تھے کہ نہیں ! دلوں کو پھیرنے والے کی قسم ۔
حدیث نمبر: 6618
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَبِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ : " خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئَا " ، قَالَ : الدُّخُّ ؟ قَالَ : " اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " ، قَالَ عُمَرُ : ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، قَالَ : " دَعْهُ إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَا تُطِيقُهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن حفص اور بشر بن محمد نے بیان کیا ، ان دونوں نے کہا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں چھپا رکھی ہے ( بتا وہ کیا ہے ؟ ) اس نے کہا کہ ” دھواں “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدبخت ! اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ، اگر یہ وہی ( دجال ) ہوا تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے اور اگر یہ وہ نہ ہوا تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ۔