کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: معصوم وہ ہے جسے اللہ گناہوں سے بچائے رکھے۔
حدیث نمبر: Q6611
عَاصِمٌ مَانِعٌ قَالَ مُجَاهِدٌ : سَدًّا عَنِ الْحَقِّ يَتَرَدَّدُونَ فِي الضَّلَالَةِ ، دَسَّاهَا أَغْوَاهَا .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ ہود میں ) فرمایا «لا عاصم اليوم من امز الله» ، «عاصم» کے معنی روکنے والا ۔ مجاہد نے کہا یہ جو سورۃ یٰسین میں فرمایا «وجعلنا من بين ايديهم سدا» یعنی ” ہم نے حق بات کے ماننے سے ان پر آڑ کر دی وہ گمراہی ( گڑھا ) میں ڈگمگا رہے ہیں ۔ “ سورۃ والشمس میں جو لفظ «دساها‏» ہے اس کا معنی گمراہ کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب القدر / حدیث: Q6611
حدیث نمبر: 6611
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا اسْتُخْلِفَ خَلِيفَةٌ إِلَّا لَهُ بِطَانَتَانِ : بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو یونس نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب بھی کوئی شخص حاکم ہوتا ہے تو اس کے صلاح کار اور مشیر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسے نیکی اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے برائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر اسے ابھارتے رہتے ہیں اور معصوم وہ ہے جسے اللہ محفوظ رکھے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب القدر / حدیث: 6611
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة