کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: صحت اور فراغت کے بیان میں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے۔
حدیث نمبر: 6412
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ : الصِّحَّةُ ، وَالْفَرَاغُ " ، قَالَ عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن سعید نے خبر دی ، وہ ابوہند کے صاحب زادے ہیں ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے ، صحت اور فراغت ۔ “ عباس عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی ہند نے ، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6412
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ ، فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ ، وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے معاویہ بن قرہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأصلح الأنصار والمهاجره» ” اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں ۔ پس تو انصار و مہاجرین میں صلاح کو باقی رکھ ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6413
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6414
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، كُنَّا مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَحْفِرُ ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ وَيَمُرُّ بِنَا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَالْمُهَاجِرَهْ " ، تَابَعَهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر موجود تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خندق کھودتے جاتے تھے اور ہم مٹی کو اٹھاتے جاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے فرماتے «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره ،‏‏‏‏ فاغفر للأنصار والمهاجره» ” اے اللہ ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے ، پس تو انصار و مہاجرین کی مغفرت کر ۔ “ اس روایت کی متابعت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6414
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة