کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہنا۔
حدیث نمبر: 6409
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقَبَةٍ ، أَوْ قَالَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ : فَلَمَّا عَلَا عَلَيْهَا رَجُلٌ نَادَى ، فَرَفَعَ صَوْتَهُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو سلیمان بن طرخان تیمی نے خبر دی ، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی یا درے پر چڑھنے لگے ۔ بیان کیا کہ جب ایک اور صحابی بھی اس پر چڑھ گئے تو انہوں نے بلند آواز سے «لا إله إلا الله والله أكبر‏.‏» کہا ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ۔ پھر فرمایا ، ابوموسیٰ یا تو یوں ( فرمایا ) اے عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے ۔ میں نے عرض کیا ، ضرور ارشاد فرمائیں ، فرمایا کہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6409
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة