حدیث نمبر: 6386
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : " مَهْيَمْ أَوْ مَهْ " ، قَالَ : قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا اثر دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے ؟ کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر سونے پر شادی کی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے ، ولیمہ کر ، چاہے ایک بکری کا ہی ہو ۔
حدیث نمبر: 6387
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ ، أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " ، قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ، أَوْ تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ " ، قُلْتُ : هَلَكَ أَبِي ، فَتَرَكَ سَبْعَ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " فَبَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ " ، لَمْ يَقُلْ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرٍو : بَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ` میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی تھیں ( راوی کو تعداد میں شبہ تھا ) پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جابر کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا بیاہی سے ۔ فرمایا ، کسی لڑکی ( کنواری ) سے کیوں نہ کی ۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی ۔ میں نے عرض کی ، میرے والد ( عبداللہ ) شہید ہوئے اور سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں ۔ اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی لڑکی لاؤں ۔ چنانچہ میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو ان کی نگرانی کر سکے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے ۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلمہ نے عمرو سے روایت میں ” اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے “ کے الفاظ نہیں کہے ۔