کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: عذاب قبر سے پناہ مانگنا۔
حدیث نمبر: 6364
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ ، قَالَ : وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا ، قَالَتْ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہما سے سنا ( موسیٰ نے ) بیان کیا کہ` میں نے کسی سے نہیں سنا کہ ان کی بیان کی ہوئی حدیث سے مختلف کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6364
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6365
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ مُصْعَبٍ ، كَانَ سَعْدٌ يَأْمُرُ بِخَمْسٍ وَيَذْكُرُهُنّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهِنَّ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا يَعْنِي فِتْنَةَ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ، ان سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص نے کہ` سعد رضی اللہ عنہ پانچ باتوں کا حکم دیتے تھے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ذکر کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پناہ مانگنے کا حکم کرتے تھے کہ «اللهم إني أعوذ بك من البخل ،‏‏‏‏ وأعوذ بك من الجبن ،‏‏‏‏ وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر ،‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة الدنيا يعني فتنة الدجال وأعوذ بك من عذاب القبر» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ بدترین بڑھاپا مجھ پر آ جائے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ سے ، اس سے مراد دجال کا فتنہ ہے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6365
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6366
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَتَا لِي : إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ ، فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا ، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَجُوزَيْنِ وَذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : " صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا " ، فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلَاةٍ ، إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
مولانا داود راز
´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب ہو گا ۔ لیکن میں نے انہیں جھٹلایا اور ان کی ( بات کی ) تصدیق نہیں کر سکی ۔ پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! دو بوڑھی عورتیں تھیں ، پھر میں آپ سے واقعہ کا ذکر کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے صحیح کہا ، قبر والوں کو عذاب ہو گا اور ان کے عذاب کو تمام چوپائے سنیں گے ۔ پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6366
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة