کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: Q511
وَكَرِهَ عُثْمَانُ أَنْ يُسْتَقْبَلَ الرَّجُلُ وَهُوَ يُصَلِّي ، وَإِنَّمَا هَذَا إِذَا اشْتَغَلَ بِهِ فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَشْتَغِلْ ، فَقَدْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : مَا بَالَيْتُ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ .
مولانا داود راز
اور عثمان رضی اللہ عنہ نے ناپسند فرمایا کہ نمازی کے سامنے منہ کر کے بیٹھے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ کراہیت جب ہے کہ نمازی کا دل ادھر لگ جائے ۔ اگر دل نہ لگے تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس کی پروا نہیں ۔ اس لیے کہ مرد کی نماز کو مرد نہیں توڑتا ۔
حدیث نمبر: 511
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ ، فَقَالُوا : يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ ، قَالَتْ : قَدْ جَعَلْتُمُونَا كِلَابًا ، لَقَدْ " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ ، فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا " ، وَعَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا سلیمان اعمش کے واسطہ سے ، انہوں نے مسلم بن صبیح سے ، انہوں نے مسروق سے ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ` ان کے سامنے ذکر ہوا کہ نماز کو کیا چیزیں توڑ دیتی ہیں ، لوگوں نے کہا کہ کتا ، گدھا اور عورت ( بھی ) نماز کو توڑ دیتی ہے ۔ ( جب سامنے آ جائے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم نے ہمیں کتوں کے برابر بنا دیا ۔ حالانکہ میں جانتی ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کے درمیان ( سامنے ) چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی ۔ مجھے ضرورت پیش آتی تھی اور یہ بھی اچھا نہیں معلوم ہوتا تھا کہ خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دوں ۔ اس لیے میں آہستہ سے نکل آتی تھی ۔ اعمش نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے ، انہوں نے عائشہ سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی ۔