حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ ، فَنَادَى يَا كَعْبُ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيِ الشَّطْرَ ، قَالَ : لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : قُمْ فَاقْضِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر عبدی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے زہری کے واسطہ سے ، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے ، انہوں نے اپنے باپ کعب بن مالک سے کہ` انھوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی گفتگو بلند آوازوں سے ہونے لگی ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرے سے سن لیا ۔ آپ پردہ ہٹا کر باہر تشریف لائے اور پکارا ۔ کعب ، کعب ( رضی اللہ عنہ ) بولے ، جی یا رسول اللہ ! ( حکم ) فرمائیے کیا ارشاد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دو ۔ آپ کا اشارہ تھا کہ آدھا کم کر دیں ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے ( بخوشی ) ایسا کر دیا ۔ پھر آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا ، اچھا اب اٹھو اور اس کا قرض ادا کرو ۔ ( جو آدھا معاف کر دیا گیا ہے ) ۔