کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: دھنسی ہوئی جگہوں میں یا جہاں کوئی اور عذاب اترا ہو وہاں نماز (پڑھنا کیسا ہے؟)۔
حدیث نمبر: Q433
وَيُذْكَرُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَرِهَ الصَّلَاةَ بِخَسْفِ بَابِلَ .
مولانا داود راز
علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے بابل کی دھنسی ہوئی جگہ میں نماز کو مکروہ سمجھا ۔
حدیث نمبر: 433
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ ، لَا يُصِيبُكُمْ مَا أَصَابَهُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ان عذاب والوں کے آثار سے اگر تمہارا گزر ہو تو روتے ہوئے گزرو ، اگر تم اس موقع پر رو نہ سکو تو ان سے گزرو ہی نہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی ان کا سا عذاب آ جائے ۔