کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قمیص اور پاجامہ اور جانگیا اور قباء (چغہ) پہن کر نماز پڑھنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 365
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ فَقَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ " ، ثُمَّ سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ ، فَقَالَ : إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا ، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ ، فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ ، قَالَ : فِي تُبَّانٍ وَرِدَاءٍ .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہ کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب کے واسطہ سے ، انہوں نے محمد سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، آپ نے فرمایا کہ` ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے صرف ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم سب ہی لوگوں کے پاس دو کپڑے ہو سکتے ہیں ؟ پھر ( یہی مسئلہ ) عمر رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا تو انہوں نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں فراغت دی ہے تو تم بھی فراغت کے ساتھ رہو ۔ آدمی کو چاہیے کہ نماز میں اپنے کپڑے اکٹھا کر لے ، کوئی آدمی تہبند اور چادر میں نماز پڑھے ، کوئی تہبند اور قمیص ، کوئی تہبند اور قباء میں ، کوئی پاجامہ اور چادر میں ، کوئی پاجامہ اور قمیص میں ، کوئی پاجامہ اور قباء میں ، کوئی جانگیا اور قباء میں ، کوئی جانگیا اور قمیص میں نماز پڑھے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ کوئی جانگیا اور چادر میں نماز پڑھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصلاة / حدیث: 365
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 366
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ ؟ فَقَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَ ، وَلَا الْبُرْنُسَ ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ ، وَلَا وَرْسٌ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری کے حوالہ سے بیان کیا ، انہوں نے سالم سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنے نہ پاجامہ ، نہ باران کوٹ اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران لگا ہوا ہو اور نہ ورس لگا ہوا کپڑا ، پھر اگر کسی شخص کو جوتیاں نہ ملیں ( جن میں پاؤں کھلا رہتا ہو ) وہ موزے کاٹ کر پہن لے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں اور ابن ابی ذئب نے اس حدیث کو نافع سے بھی روایت کیا ، انہوں نے ایسا ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصلاة / حدیث: 366
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة