حدیث نمبر: Q5888
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحْفِي شَارِبَهُ حَتَّى يُنْظَرَ إِلَى بَيَاضِ الْجِلْدِ ، وَيَأْخُذُ هَذَيْنِ ، يَعْنِي بَيْنَ الشَّارِبِ وَاللِّحْيَةِ
مولانا داود راز
اور عمر ( یا ابن عمر ) رضی اللہ عنہما اتنی مونچھ کترتے تھے کہ کھال کی سپیدی دکھلائی دیتی اور مونچھ اور داڑھی کے بیچ میں ( ٹھڈی پر ) جو بال ہوتے یعنی متفقہ اس کے بال کتروا ڈالتے ۔
حدیث نمبر: 5888
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ نَافِعٍ . ح قَالَ أَصْحَابُنَا ، عَنِ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے حنظلہ بن ابی ہانی نے ، ان سے نافع نے بیان کیا ، ( امام بخاری رحمہ اللہ نے ) کہا کہ اس حدیث کو ہمارے اصحاب نے مکی سے روایت کیا ، انہوں نے بحوالہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مونچھ کے بال کتروانا پیدائشی سنت ہے ۔“
حدیث نمبر: 5889
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : ، حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ زہری نے ہم سے بیان کیا ( سفیان نے کہا ) ہم سے زہری نے سعید بن مسیب سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) روایت کیا کہ` پانچ چیزیں ( فرمایا کہ ) پانچ چیزیں ختنہ کرانا ، موئے زیر ناف مونڈنا ، بغل کے بال نوچنا ، ناخن ترشوانا اور مونچھ کم کرانا پیدائشی سنتوں میں سے ہیں ۔