کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: قسط ہندی اور قسط بحری یعنی کوٹ جو سمندر سے نکلتا ہے اس کا نام لینا۔
حدیث نمبر: Q5692
وَهُوَ الْكُسْتُ مِثْلُ الْكَافُورِ وَالْقَافُورِ مِثْلُ كُشِطَتْ وَقُشِطَتْ نُزِعَتْ وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ قُشِطَتْ
مولانا داود راز
اسے «كست» بھی کہتے ہیں جیسے «كافور» کو «قافور» اور قرآن میں بھی سورۃ التکویر میں «كشطت» اور «قشطت.» دونوں قرآت ہیں ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے «قشطت.» سے پڑھا ہے ۔
حدیث نمبر: 5692
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ : يُسْتَعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ، کہا میں نے زہری سے سنا ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے کہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس عود ہندی ( «كست» ) کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے ۔ حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے ، پسلی کے درد میں چبائی جاتی ہے ۔
حدیث نمبر: 5693
وَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ ، فَبَالَ عَلَيْهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّ عَلَيْهِ .
مولانا داود راز
اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک شیرخوار لڑکے کو لے کر حاضر ہوئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اس نے پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر پیشاب کی جگہ پر چھینٹا دیا ۔