کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کسی میٹھی چیز کا شربت اور شہد کا شربت بنانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q5614
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ : لَا يَحِلُّ شُرْبُ بَوْلِ النَّاسِ ، لِشِدَّةٍ تَنْزِلُ لِأَنَّهُ رِجْسٌ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ سورة المائدة آية 4 . وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي السَّكَرِ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ .
مولانا داود راز
´اور زہری نے کہا` اگر پیاس کی شدت ہو اور پانی نہ ملے تو بھی انسان کا پیشاب پینا جائز نہیں کیونکہ وہ نجاست ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «أحل لكم الطيبات‏» کہ ” تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں “ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نشہ لانے والی چیزوں کے بارے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حرام چیزوں میں شفاء نہیں رکھی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: Q5614
حدیث نمبر: 5614
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْحَلْوَاءُ ، وَالْعَسَلُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ہشام نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شیرینی اور شہد کو دوست رکھتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5614
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة