کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: دودھ پینا۔
حدیث نمبر: Q5603
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ}.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل میں فرمایا «من بين فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربين» اللہ تعالیٰ پاک لید اور خون کے درمیان سے خالص دودھ پیدا کرتا ہے جو پینے والوں کو خوب رچتا پچتا ( حلق سے آسانی سے اتر جانے والا ) ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: Q5603
حدیث نمبر: 5603
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَقَدَحِ خَمْرٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` شب معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کئے گئے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5603
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5604
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، سَمِعَ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ : " شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ " ، فَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ : شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ فَإِذَا وُقِّفَ عَلَيْهِ ، قَالَ : هُوَ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ .
مولانا داود راز
´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو سالم ابوالنضر نے خبر دی ، انہوں نے ام الفضل ( والدہ عبداللہ بن عباس ) کے غلام عمیر سے سنا ، وہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے بیان کیا کہ` عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شبہ تھا ۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا ۔ حمیدی کہتے ہیں کبھی سفیان اس حدیث کو یوں بیان کرتے تھے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں لوگوں کو شبہ تھا اس لیے ام الفضل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( دودھ ) بھیجا ۔ کبھی سفیان اس حدیث کو مرسلاً ام الفضل سے روایت کرتے تھے سالم اور عمیر کا نام نہ لیتے ۔ جب ان سے پوچھتے کہ یہ حدیث مرسل ہے یا مرفوع متصل تو وہ اس وقت کہتے ( مرفوع متصل ہے ) ام فضل سے مروی ہے ( جو صحابیہ تھیں ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5604
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5605
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَّا خَمَّرْتَهُ ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابوصالح ( ذکوان ) اور ابوسفیان ( طلحہ بن نافع قرشی ) نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ابو حمید ساعدی مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ ( کھلا ہوا ) لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے ایک لکڑی ہی اس پر رکھ لیتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5605
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5606
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يَذْكُرُ أُرَاهُ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ النَّقِيعِ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَّا خَمَّرْتَهُ ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا " . وَحَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا .
مولانا داود راز
´ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا میں نے ابوصالح سے سنا ، جیسا کہ مجھے یاد ہے وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ` انہوں نے بیان کیا کہ ایک انصاری صحابی ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ مقام نقیع سے ایک برتن میں دودھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لائے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے ، اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے ۔ اور اعمش نے کہا کہ مجھ سے ابوسفیان نے بیان کیا ، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5606
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5607
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَحَلَبْتُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فِي قَدَحٍ ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ، وَأَتَانَا سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَطَلَبَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْهِ وَأَنْ يَرْجِعَ ، فَفَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمود نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوالنضر نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( راستہ میں ) ہم ایک چرواہے کے قریب سے گزرے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیاسے تھے پھر میں نے ایک پیالے میں ( چرواہے سے پوچھ کر ) کچھ دودھ دوہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پیا اور اس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی اور سراقہ بن جعشم گھوڑے پر سوار ہمارے پاس ( تعاقب کرتے ہوئے ) پہنچ گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی ۔ آخر اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بددعا نہ کریں اور وہ واپس ہو جائے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5607
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5608
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نِعْمَ الصَّدَقَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً " وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ : مِنْحَةً تَغْدُو بِإِنَاءٍ وَتَرُوحُ بِآخَرَ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ہی عمدہ صدقہ ہے خوب دودھ دینے والی اونٹنی جو کچھ دنوں کے لیے کسی کو عطیہ کے طور پر دی گئی ہو اور خوب دودھ دینے والی بکری جو کچھ دنوں کے لیے عطیہ کے طور پر دی گئی ہو جس سے صبح و شام دودھ برتن بھربھر کر نکالا جائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5608
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5609
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ ، وَقَالَ : إِنَّ لَهُ دَسَمًا "
مولانا داود راز
´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5609
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5610
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُفِعْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهَرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهَرَانِ بَاطِنَانِ ، فَأَمَّا الظَّاهِرَانِ : النِّيلُ وَالْفُرَاتُ ، وَأَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ ، فَأُتِيتُ بِثَلَاثَةِ أَقْدَاحٍ قَدَحٌ فِيهِ لَبَنٌ ، وَقَدَحٌ فِيهِ عَسَلٌ ، وَقَدَحٌ فِيهِ خَمْرٌ ، فَأَخَذْتُ الَّذِي فِيهِ اللَّبَنُ فَشَرِبْتُ ، فَقِيلَ لِي : أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَنْتَ وَأُمَّتُكَ " ، قَالَ هِشَامٌ ، وَسَعِيدٌ ، وَهَمَّامٌ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْأَنْهَارِ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا ، ثَلَاثَةَ أَقْدَاحٍ .
مولانا داود راز
´اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے شعبہ نے ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،` ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا تو وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں ۔ دو ظاہری نہریں اور دو باطنی ۔ ظاہری نہریں تو نیل اور فرات ہیں اور باطنی نہریں جنت کی دو نہریں ہیں ۔ پھر میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک پیالے میں دودھ تھا ، دوسرے میں شہد تھا اور تیسرے میں شراب تھی ۔ میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور پیا ۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے اور تمہاری امت نے اصل فطرت کو پا لیا ۔ ہشام ، سعید اور ہمام نے قتادہ سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔ اس میں ندیوں کا ذکر تو ایسا ہی ہے لیکن تین پیالوں کا ذکر نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأشربة / حدیث: 5610
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة