کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: مردار جانور کی کھال کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 5531
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ قَالُوا إِنَّهَا مَيِّتَةٌ ، قَالَ : إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: 5531
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5532
حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَنْزٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : مَا عَلَى أَهْلِهَا ؟ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے خطاب بن عثمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن حمیر نے بیان کیا ، ان سے ثابت بن عجلان نے بیان کیا ، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرے ہوئے بکرے کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اس کے مالکوں کو کیا ہو گیا ہے اگر وہ اس کے چمڑے کو کام میں لاتے ( تو بہتر ہوتا ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الذبائح والصيد / حدیث: 5532
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة