کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) یہ فرمانا کہ بچے کے وارث (مثلاً بھائی چچا وغیرہ) پر بھی یہی لازم ہے۔
حدیث نمبر: Q5369
{وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ} إِلَى قَوْلِهِ: {صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ}.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ نحل میں ) فرمایا «وضرب الله مثلا رجلين أحدهما أبكم‏» کہ ” اللہ دوسروں کی مثال بیان کرتا ہے ایک تو گونگا جو کچھ بھی قدرت نہیں رکھتا ۔ “ آخر آیت «صراط مستقيم‏» تک ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النفقات / حدیث: Q5369
حدیث نمبر: 5369
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، انہیں ہشام نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے ، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا مجھے ابوسلمہ ( ان کے پہلے شوہر ) کے لڑکوں کے بارے میں ثواب ملے گا اگر میں ان پر خرچ کروں ۔ میں انہیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی ، وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، تمہیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا جو تم ان پر خرچ کرو گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النفقات / حدیث: 5369
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5370
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ هِنْدُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ ؟ قَالَ : خُذِي بِالْمَعْرُوفِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` ہند نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ابوسفیان بخیل ہیں ۔ اگر میں ان کے مال سے اتنا ( ان سے پوچھے بغیر ) لے لیا کروں جو میرے اور میرے بچوں کو کافی ہو تو کیا اس میں کوئی گناہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دستور کے مطابق لے لیا کرو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النفقات / حدیث: 5370
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة