حدیث نمبر: 5252
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لِيُرَاجِعْهَا ، قُلْتُ : تُحْتَسَبُ ، قَالَ : فَمَهْ " . وَعَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، قُلْتُ : تُحْتَسَبُ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے انس بن سیرین نے ، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے کہا کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ چاہیے کہ رجوع کر لیں ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا یہ طلاق ، طلاق سمجھی جائے گی ؟ انہوں نے کہا کہ چپ رہ ۔ پھر کیا سمجھی جائے گی ؟ اور قتادہ نے بیان کیا ، ان سے یونس بن جبیر نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ) فرمایا کہ اسے حکم دو کہ رجوع کر لے ( یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ ) میں نے پوچھا ، کیا یہ طلاق طلاق سمجھی جائے گی ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تو کیا سمجھتا ہے اگر کوئی کسی فرض کے ادا کرنے سے عاجز بن جائے یا احمق ہو جائے ۔ تو وہ فرض اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا ؟ ہرگز نہیں ۔
حدیث نمبر: 5253
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حُسِبَتْ عَلَيَّ بِتَطْلِيقَةٍ .
مولانا داود راز
´امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ابومعمر عبداللہ بن عمرو منقری نے کہا ( یا ہم سے بیان کیا ) کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے کہا` یہ طلاق جو میں نے حیض میں دی تھی مجھ پر شمار کی گئی ۔