کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: عورت اپنے شوہر کی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے؟
حدیث نمبر: 5212
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِهَا وَيَوْمِ سَوْدَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، اس سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں خود ان کی باری کے دن اور سودہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن رہتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب النكاح / حدیث: 5212
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة