کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: جن کے نزدیک سورۃ البقرہ یا فلاں فلاں سورت (نام کے ساتھ) کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 5040
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَ بِهِمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ` مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے علقمہ اور عبدالرحمٰن بن یزید نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتوں کو جو شخص رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی ۔
حدیث نمبر: 5041
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ ، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ ؟ قَالَ : أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : كَذَبْتَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقُودُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا ، وَإِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ ، فَقَالَ : " يَا هِشَامُ ، اقْرَأْهَا ؟ " فَقَرَأَهَا الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ، ثُمَّ قَالَ : " اقْرَأْ يَا عُمَرُ " ، فَقَرَأْتُهَا الَّتِي أَقْرَأَنِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے مسعود بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے خبر دی کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ` میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا ۔ میں ان کی قرآت کو غور سے سننے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے بہت سے طریقوں میں تلاوت کر رہے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھایا تھا ۔ ممکن تھا کہ میں نماز ہی میں ان کا سر پکڑ لیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر لپیٹ دی اور پوچھا یہ سورتیں جنہیں ابھی ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے تمہیں کس نے سکھائی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح ان سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے ۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورتیں پڑھائی ہیں جو میں نے تم سے سنیں ۔ میں انہیں کھینچتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے خود سنا کہ یہ شخص سورۃ الفرقان ایسی قرآت سے پڑھ رہا تھا ۔ جس کی تعلیم آپ نے ہمیں نہیں دی ہے آپ مجھے بھی سورۃ الفرقان پڑھا چکے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہشام ! پڑھ کر سناؤ ۔ انہوں نے اسی طرح اس کی قرآت کی جس طرح میں ان سے سن چکا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر ! اب تم پڑھو ۔ میں نے بھی اسی طرح قرآت کی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید سات قسم کی قراتوں پر نازل ہوا ہے بس تمہارے لیے جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو ۔
حدیث نمبر: 5042
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا ، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری کو رات کے وقت مسجد میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس آدمی پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا ۔