کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمانا ”جب فرشتوں نے کہا اے مریم!“ سے آیت «فإنما يقول له كن فيكون‏» تک۔
حدیث نمبر: Q3433
يُبَشِّرُكِ سورة آل عمران آية 45 وَيَبْشُرُكِ وَاحِدٌ وَجِيهًا سورة آل عمران آية 45 شَرِيفًا وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : المَسِيحُ : الصِّدِّيقُ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْكَهْلُ الْحَلِيمُ وَالْأَكْمَهُ مَنْ يُبْصِرُ بِالنَّهَارِ وَلَا يُبْصِرُ بِاللَّيْلِ وَقَالَ غَيْرُهُ مَنْ يُولَدُ أَعْمَى .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «يبشرك‏» اور «ويبشرك» ( مزید اور مجرد ) دونوں کے ایک معنی ہیں ۔ «وجيها‏» کا معنی شریف ۔ ابراہیم نخعی نے کہا «مسيح» «صديق‏.‏» کو کہتے ہیں ۔ مجاہد نے کہا «كهلا‏» کا معنی برباد ۔ «أكمه» جو دن کو دیکھے ، پر رات کو نہ دیکھے ۔ یہ مجاہد کا قول ہے ۔ اوروں نے کہا «أكمه» کے معنی مادر زاد اندھے کے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: Q3433
حدیث نمبر: 3433
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، انہوں نے کہا ہم کہ میں نے مرہ ہمدانی سے سنا ۔ وہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی ۔ مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3433
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3434
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ ، تَابَعَهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
مولانا داود راز
´اور ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والیوں ( عربی خواتین ) میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں ۔ اپنے بچے پر سب سے زیادہ محبت و شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی سب سے بہتر نگراں و محافظ ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے تھے کہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی تھیں ۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو زہری کے بھتیجے اور اسحاق کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3434
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة