کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: (سورۃ الاعراف میں) طوفان سے مراد سیلاب کا طوفان ہے۔
حدیث نمبر: Q3400
يُقَالُ لِلْمَوْتِ الْكَثِيرِ طُوفَانٌ الْقُمَّلُ الْحُمْنَانُ يُشْبِهُ صِغَارَ الْحَلَمِ حَقِيقٌ سورة الأعراف آية 105 حَقٌّ سُقِطَ سورة الأعراف آية 149 كُلُّ مَنْ نَدِمَ فَقَدْ سُقِطَ فِي يَدِهِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ بکثرت اموات کو بھی طوفان کہتے ہیں ۔ «القمل» اس چیچڑی کو کہتے ہیں جو چھوٹی جوں کے مشابہ ہوتی ہے ۔ «حقيق‏» بمعنی «حق‏» لازم ۔ «سقط‏» بمعنی نادم ہوا ۔ جو شخص شرمندہ ہوتا ہے اس کے لیے عرب لوگ کہتے ہیں «سقط في يده‏.‏» تو ( گویا ) وہ اپنے ہاتھ میں گر پڑا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: Q3400