کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: (سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ”اور یاد کرو کتاب میں موسیٰ علیہ السلام کو کہ وہ چنا ہوا بندہ، رسول و نبی تھا اور ہم نے طور کی داہنی طرف سے انہیں آواز دی اور سرگوشی کے لیے انہیں نزدیک بلایا“۔
حدیث نمبر: Q3392
وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا سورة مريم آية 53 يُقَالُ لِلْوَاحِدِ وَللْاثْنَيْنِ وَالْجَمِيعِ نَجِيٌّ وَيُقَالُ خَلَصُوا نَجِيًّا اعْتَزَلُوا نَجِيًّا وَالْجَمِيعُ أَنْجِيَةٌ يَتَنَاجَوْنَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور ان کے لیے اپنی مہربانی سے ہم نے ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو نبی بنایا ۔ واحد ‘ تثنیہ اور جمع سب کے لیے لفظ «نجي‏.‏» بولا جاتا ہے ۔ سورۃ یوسف میں ہے ۔ «خلصوا نجيا.‏» یعنی اکیلے میں جا کر مشورہ کرنے لگے ( اگر «نجي‏.‏» کا لفظ مفرد کے لیے استعمال ہوا ہو تو ) اس کی جمع «أنجية‏» ہو گی ۔ سورۃ المجادلہ میں لفظ «يتناجون» بھی اسی سے نکلا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: Q3392