کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اور ایوب کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بیماری نے آ گھیرا ہے اور تو «أرحم الراحمين» ہے“۔
حدیث نمبر: Q3391
{ارْكُضْ} اضْرِبْ. {يَرْكُضُونَ} يَعْدُونَ.
مولانا داود راز
جو ( سورۃ ص میں ) «اركض برجلك» بمعنی «اضرب» ( یعنی اپنا پاؤں زمین پر مار ) «يركضون» بمعنی «يعدون» ( سورۃ انبیاء میں ، یعنی دوڑتے ہیں ) ۔
حدیث نمبر: 3391
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى ، قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، وَلَكِنْ لَا غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں ۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے ۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب ! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت ! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں ۔“