کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اور یاد کرو اسماعیل کو کتاب میں بیشک وہ وعدے کے سچے تھے“۔
حدیث نمبر: 3373
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ ، قَالَ : فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ ، قَالَ : ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کی ایک جماعت سے گزرے جو تیر اندازی میں مقابلہ کر رہی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے بنو اسماعیل ! تیر اندازی کئے جاؤ کیونکہ تمہارے بزرگ دادا بھی تیرانداز تھے اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں ۔ “ راوی نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی دوسرے فریق نے تیر اندازی بند کر دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا بات ہوئی ‘ تم لوگ تیر کیوں نہیں چلاتے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جب آپ فریق مقابل کے ساتھ ہو گئے تو اب ہم کس طرح تیر چلا سکتے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مقابلہ جاری رکھو ‘ میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3373
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة