کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) فرمان کہ ”اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا“۔
حدیث نمبر: Q3349
وَقَالَ أَبُو مَيْسَرَةَ : الرَّحِيمُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ .
مولانا داود راز
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «واتخذ الله إبراهيم خليلا» ” اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا ۔ “ اور ( سورۃ نحل میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان «إن إبراهيم كان أمة قانتا» ” بیشک ابراہیم ( تمام خوبیوں کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے خود ) ایک امت تھے ، اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرماں بردار ، ایک طرف ہونے والے اور ( سورۃ التوبہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان «إن إبراهيم لأواه حليم» ” بیشک ابراہیم نہایت نرم طبیعت اور بڑے ہی بردبار تھے ۔ “ ابومیسرہ ( عمرو بن شرحبیل ) نے کہا کہ «أواه» حبشی زبان میں «لرحيم» کے معنی میں ہے ۔
حدیث نمبر: 3349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ : أَصْحَابِي ، أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ كَمَا ، قَالَ : الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 117 - 118 " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، ان سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم لوگ حشر میں ننگے پاؤں ، ننگے جسم اور بن ختنہ اٹھائے جاؤ گے ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ” جیسا کہ ہم نے پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ ، ہم ایسے ہی لوٹائیں گے ۔ یہ ہماری طرف سے ایک وعدہ ہے جس کو ہم پورا کر کے رہیں گے ( سورۃ انبیاء ) ۔ اور انبیاء میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا اور میرے اصحاب میں سے بعض کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو میں پکار اٹھوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں ، میرے اصحاب ! لیکن مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی وفات کے بعد ان لوگوں نے پھر کفر اختیار کر لیا تھا ۔ اس وقت میں بھی وہی جملہ کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) کہیں گے «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم» ” جب تک میں ان کے ساتھ تھا ۔ ان پر نگران تھا ۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «الحكيم » تک ۔
حدیث نمبر: 3350
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ : أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِنِي ، فَيَقُولُ : أَبُوهُ فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ : يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا إِبْرَاهِيمُ مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُلْتَطِخٍ فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے بھائی عبدالحمید نے خبر دی ، انہیں ابن ابی ذئب نے ، انہیں سعید مقبری نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آذر سے قیامت کے دن جب ملیں گے تو ان کے ( والد کے ) چہرے پر سیاہی اور غبار ہو گا ۔ ابراہیم علیہ السلام کہیں گے کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری مخالفت نہ کیجئے ۔ وہ کہیں گے کہ آج میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا ۔ ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے کہ اے رب ! تو نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہیں کرے گا ۔ آج اس رسوائی سے بڑھ کر اور کون سی رسوائی ہو گی کہ میرے والد تیری رحمت سے سب سے زیادہ دور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے جنت کافروں پر حرام قرار دی ہے ۔ پھر کہا جائے گا کہ اے ابراہیم ! تمہارے قدموں کے نیچے کیا چیز ہے ؟ وہ دیکھیں گے تو ایک ذبح کیا ہوا جانور خون میں لتھڑا ہوا وہاں پڑا ہو گا اور پھر اس کے پاؤں پکڑ کر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 3351
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَوَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ ، فَقَالَ : " أَمَا لَهُمْ فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرٌ فَمَا لَهُ يَسْتَقْسِمُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی ، ان سے بکیر نے بیان کیا ، ان سے ابن عباس کے مولیٰ کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس میں ابراہیم علیہ السلام اور مریم علیہما السلام کی تصویریں دیکھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش کو کیا ہو گیا ؟ حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ فرشتے کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں رکھی ہوں ، یہ ابراہیم علیہ السلام کی تصویر ہے اور وہ بھی پانسہ پھینکتے ہوئے ۔
حدیث نمبر: 3352
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ لَمْ يَدْخُلْ حَتَّى أَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ ، فَقَالَ : قَاتَلَهُمُ اللَّهُ وَاللَّهِ إِنِ اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں ایوب نے ، انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں تو اندر اس وقت تک داخل نہ ہوئے جب تک وہ مٹا نہ دی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی تصویریں دیکھیں کہ ان کے ہاتھوں میں تیر ( پانسے کے ) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ ان پر بربادی لائے ۔ واللہ ان حضرات نے کبھی تیر نہیں پھینکے ۔“
حدیث نمبر: 3353
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ : أَتْقَاهُمْ ، فَقَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا " ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَمُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ شریف کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم آپ سے اس کے متعلق نہیں پوچھتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پھر اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ ( سب سے زیادہ شریف ہیں ) “ صحابہ نے کہا کہ ہم اس کے متعلق بھی نہیں پوچھتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اچھا عرب کے خاندانوں کے متعلق تم پوچھنا چاہتے ہو ۔ سنو جو جاہلیت میں شریف تھے اسلام میں بھی وہ شریف ہیں جب کہ دین کی سمجھ انہیں آ جائے ۔ “ ابواسامہ اور معتمر نے عبیداللہ سے بیان کیا ، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
حدیث نمبر: 3354
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ طَوِيلٍ لَا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا وَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مؤمل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عوف نے ، کہا ہم سے ابورجاء نے ، کہا ہم سے سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” آج کی رات میرے پاس ( خواب میں ) دو فرشتے ( جبرائیل و میکائیل علیہما السلام ) آئے ۔ پھر یہ دونوں فرشتے مجھے ساتھ لے کر ایک لمبے قد کے بزرگ کے پاس گئے ، وہ اتنے لمبے تھے کہ ان کا سر میں نہیں دیکھ پاتا تھا اور یہ ابراہیم علیہ السلام تھے ۔“
حدیث نمبر: 3355
حَدَّثَنِي بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَذَكَرُوا لَهُ الدَّجَّالَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ أَوْ ك ف ر ، قَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ وَلَكِنَّهُ ، قَالَ : أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَجَعْدٌ آدَمُ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي " .
مولانا داود راز
´ہم سے بیان بن عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی ، انہیں مجاہد نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا` آپ کے سامنے لوگ دجال کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہو گا ” کافر “ یا ( یوں لکھا ہوا ہو گا ) ” ک ف ر “ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی کہ ابراہیم علیہ السلام ( کی شکل و وضع معلوم کرنے ) کے لیے تم اپنے صاحب کو دیکھ سکتے ہو اور موسیٰ علیہ السلام کا بدن گٹھا ہوا ، گندم گوں ، ایک سرخ اونٹ پر سوار تھے ۔ جس کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی ۔ جیسے میں انہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3356
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُّومِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن القرشی نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ابراہیم علیہ السلام نے اسی ( 80 ) سال کی عمر میں بسولے سے ختنہ کیا ۔“
حدیث نمبر: 3356M
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، وَقَالَ : بِالْقَدُومِ مُخَفَّفَةً تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، تَابَعَهُ عَجْلَانُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، پھر یہی حدیث نقل کی` لیکن پہلی روایت میں «قدوم» بہ تشدید دال ہے اور اس میں «قدوم» بہ تخفیف دال ہے ۔ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں ۔ یعنی بسولہ ( جو بڑھیوں کا ایک مشہور ہتھیار ہوتا ہے اسے بسوہ بھی کہتے ہیں ) شعیب کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن اسحاق نے بھی ابوالزناد سے روایت کیا ہے اور عجلان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ۔
حدیث نمبر: 3357
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن تلید رعینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی ، انہیں ایوب سختیانی نے ، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ابراہیم علیہ السلام نے توریہ تین مرتبہ کے سوا اور کبھی نہیں کیا ۔“
حدیث نمبر: 3358
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَوْلُهُ إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63 ، وَقَالَ : بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ هَا هُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ، قَالَ : أُخْتِي فَأَتَى سَارَةَ ، قَالَ : يَا سَارَةُ لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرَكِ ، وَإِنَّ هَذَا سَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ فَأُخِذَ ، فَقَالَ : ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ ، ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدَّ ، فَقَالَ : ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَمْ تَأْتُونِي بِإِنْسَانٍ إِنَّمَا أَتَيْتُمُونِي بِشَيْطَانٍ فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ مَهْيَا ، قَالَتْ : رَدَّ اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ أَوِ الْفَاجِرِ فِي نَحْرِهِ وَأَخْدَمَ هَاجَرَ ، قَالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ابراہیم علیہ السلام نے تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا ، دو ان میں سے خالص اللہ عزوجل کی رضا کے لیے تھے ۔ ایک تو ان کا فرمانا ( بطور توریہ کے ) کہ ” میں بیمار ہوں “ اور دوسرا ان کا یہ فرمانا کہ ” بلکہ یہ کام تو ان کے بڑے ( بت ) نے کیا ہے ۔ “ اور بیان کیا کہ ایک مرتبہ ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہا السلام ایک ظالم بادشاہ کی حدود سلطنت سے گزر رہے تھے ۔ بادشاہ کو خبر ملی کہ یہاں ایک شخص آیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ دنیا کی ایک خوبصورت ترین عورت ہے ۔ بادشاہ نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس اپنا آدمی بھیج کر انہیں بلوایا اور سارہ علیہا السلام کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں ۔ پھر آپ سارہ علیہا السلام کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے سارہ ! یہاں میرے اور تمہارے سوا اور کوئی بھی مومن نہیں ہے اور اس بادشاہ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری ( دینی اعتبار سے ) بہن ہو ۔ اس لیے اب تم کوئی ایسی بات نہ کہنا جس سے میں جھوٹا بنوں ۔ پھر اس ظالم نے سارہ کو بلوایا اور جب وہ اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن فوراً ہی پکڑ لیا گیا ۔ پھر وہ کہنے لگا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کرو ( کہ اس مصیبت سے نجات دے ) میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ چنانچہ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا ۔ لیکن پھر دوسری مرتبہ اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس مرتبہ بھی اسی طرح پکڑ لیا گیا ، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت اور پھر کہنے لگا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کرو ، میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ سارہ علیہا السلام نے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا ۔ اس کے بعد اس نے اپنے کسی خدمت گار کو بلا کر کہا کہ تم لوگ میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے ہو ، یہ تو کوئی سرکش جن ہے ( جاتے ہوئے ) سارہ علیہ السلام کے لیے اس نے ہاجرہ علیہا السلام کو خدمت کے لیے دیا ۔ جب سارہ آئیں تو ابراہیم علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۔ آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے ان کا حال پوچھا ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر یا ( یہ کہا کہ ) فاجر کے فریب کو اسی کے منہ پر دے مارا اور ہاجرہ علیہا السلام کو خدمت کے لیے دیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے «بني ماء السماء.» ( اے آسمانی پانی کی اولاد ! یعنی اہل عرب ) تمہاری والدہ یہی ( ہاجرہ علیہا السلام ) ہیں ۔
حدیث نمبر: 3359
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَوْ ابْنُ سَلَامٍ عَنْهُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ ، وَقَالَ : كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا یا ابن سلام نے ( ہم سے بیان کیا عبیداللہ بن موسیٰ کے واسطے سے ) انہیں ابن جریج نے خبر دی ، انہیں عبدالحمید بن جبیر نے ، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ام شریک رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر پھونکا تھا ۔
حدیث نمبر: 3360
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ ، قَالَ : لَيْسَ كَمَا تَقُولُونَ وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 بِشِرْكٍ أَوَ لَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 " .
مولانا داود راز
´ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب یہ آیت اتری «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی قسم کے ظلم کی ملاوٹ نہ کی ۔ “ تو ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ۔ جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ۔ ( میں ظلم سے مراد ) شرک ہے کیا تم نے لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو یہ نصیحت نہیں سنی کہ ” اے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا ، بیشک شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے ۔ “