کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الحاقہ میں) فرمایا ”لیکن قوم عاد، تو انہیں ایک نہایت تیز تند آندھی سے ہلاک کیا گیا، جو بڑی غضبناک تھی“۔
حدیث نمبر: Q3343
قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَتَتْ عَلَى الْخُزَّانِ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا سورة الحاقة آية 7 مُتَتَابِعَةً فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ سورة الحاقة آية 7 أُصُولُهَا فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ سورة الحاقة آية 8 بَقِيَّةٍ .
مولانا داود راز
ابن عیینہ نے ( آیت کے لفظ ) «عاتية» کی تشریح میں کہا کہ ( «عتت على الخزان» ) یعنی وہ اپنے داروغہ فرشتوں کے قابو سے باہر ہو گئی جسے اللہ نے ان پر متواتر سات رات اور آٹھ دن تک مسلط کیا ( آیت میں ) لفظ «حسوما» بمعنی «متتابعة» ہے یعنی وہ پے در پے چلتی رہی ( ایک منٹ بھی نہیں رکی ) پس اگر تو اس وقت موجود ہوتا تو اس قوم کو وہاں یوں گرا ہوا دیکھتا کہ گویا وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے پڑے ہیں ، سو کیا تجھ کو ان میں سے کوئی بھی بچا ہوا نظر آتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3343
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے ، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( غزوہ خندق کے موقع پر ) پروا ہوا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ہوا سے ہلاک کر دی گئی تھی ۔“
حدیث نمبر: 3344
قَالَ : وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَرْبَعَةِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ ، قَالُوا : يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا ، قَالَ : إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقٌ ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ : مَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُ أَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَلَا تَأْمَنُونِي فَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَتْلَهُ أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .
مولانا داود راز
´( امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ) کہ ابن کثیر نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابن ابی نعیم نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` علی رضی اللہ عنہ نے ( یمن سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا ، اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی ، عیینہ بن بدر فزاری ، زید طائی بنی نبہان والے اور علقمہ بن علاثہ عامری بنو کلاب والے ، اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظر انداز کر دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف ان کے دل ملانے کے لیے انہیں دیتا ہوں ( کیونکہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں ) پھر ایک شخص سامنے آیا ، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں ، کلے پھولے ہوئے تھے ، پیشانی بھی اٹھی ہوئی ، ڈاڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا ۔ اس نے کہا اے محمد ! اللہ سے ڈرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانت دار بنا کر بھیجا ہے ۔ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے ؟ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی ، میرا خیال ہے کہ یہ خالد بن ولید تھے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا ، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی نسل سے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) اس شخص کے بعد اسی کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے ، جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے ، لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے ، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا ( عذاب الٰہی سے ) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا ۔
حدیث نمبر: 3345
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 " .
مولانا داود راز
´ہم سے خالد بن یزید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ان سے اسود نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ آیت «فهل من مدكر» کی تلاوت فرما رہے تھے ۔